کھوکھراپار: پہلی ہندوستانی ریل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی تھرلنک ایکسپریس سنیچر کو چالیس سال کے بعد کھوکھرو پار سرحد سے ساڑھے پانچ سو مسافروں کو لے کر پاکستان کی حدود میں داخل ہوگئی ہے۔ تھر ایکسپریس نے موناباؤ کھوکھراپار روٹ پر دو طرفہ معاہدے کے تحت چھ ماہ مکمل کر لیئے ہیں اور سنیچر سے بھارت کی تھر ایکسپریس موناباؤ سے کھوکھراپار زیرو پوائنٹ تک چلے گی۔ پاکستان کی تھر ایکسپریس کراچی، حیدرآباد، اور میرپورخاص سے مسافروں کو لے کر زیرو پوائنٹ پہنچائے گی۔ جہاں سے بھارت سے آنے والی تھر لنک ایکسپریس مسافروں کو موناباؤ لے جائے گی۔ پہلی ہندوستانی ٹرین کا استقبال کرنے کے لیئے ریلوے حکام کھوکھراپار پر جمع تھے۔ دو طرفہ معاہدے کے تحت کھوکھراپار موناباؤ روٹ پر دونوں ممالک باری باری چھ چھ ماہ تک ٹرین چلائیں گے۔ ہندوستان نے سنیچر سے ٹرین چلائی ہے جو آئندہ چھ ماہ تک چلے گی۔ دونوں ملکوں کے درمیان ریل لنک چالیس سال کے بعد اٹھارہ فروری کوبحال ہوا تھا اور ابھی تک پاکستان کی ٹرین ہندوستان کے ریلوے سٹیشن مونا باؤ تک جا رہی تھی۔ پاکستان کی باری گیارہ اگست کو ختم ہو گئی ہے۔ | اسی بارے میں تھر ایکسپریس کے آغاز میں تاخیر24 January, 2006 | انڈیا تھرایکسپریس کے چار گنا مسافر16 June, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||