راجن پور: تعمیراتی کارکنوں کا اغواء | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
تونسہ بیراج سے بلوچستان کو نہری پانی کی فراہمی کے لیئے کچھی کینال کے منصوبے پر کام کرنے والی ایک تعمیراتی فرم کے بعض اہلکاروں کے مبینہ اغوا کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے مظاہرین نے ڈیرہ غازی خان کے قریب کوئٹہ روڈ کو اتوار اور پیر کی درمیانی شب کئی گھنٹے تک ٹریفک کے لیئے بند کیئے رکھا۔ احتجاج کرنے والے بیسیوں افراد کا تعلق بھی تعمیراتی فرم ’ دی بلوچ کنسٹرکشن کمپنی‘ سے بتایا جا رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق کمپنی کے تیس کے قریب ملازمین اتوار کے روز پہاڑی نالے مٹھاون سے ٹرکوں پر پتھر لاتے ہوئے راجن پور کے علاقے لنڈی سیداں کے قریب غائب ہوگئے۔ملازمین کی گمشدگی کی اطلاع رات گئے ڈیرہ غازی خان میں کوئٹہ روڈ کے ساتھ واقع کمپنی کے کیمپ میں پہنچی تو وہاں پر موجود اہلکاروں نے ان کی بازیابی کے لیئے احتجاج شروع کر دیا۔ عینی شاہدین کے مطابق ٹریفک معطل ہو جانے کی وجہ سے سڑک کے دونوں اطراف گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔ بی بی سی کو ٹریفک جام میں پھنسے بعض مسافروں نے موبائل فون سے واقعہ کی اطلاع کی اور ساتھ ہی مظاہرین کی قیادت کرنے والے ایک صاحب سے بات کرائی جنہوں نے اپنا نام میاں خان بتایا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے ساتھیوں کو راجن پور کے گورچانی قبیلے کے ایک بااثر شخص نے اغوا کیا ہے جو بارڈر ملٹری پولیس میں جمعدار (پولیس انسپکٹر کے مساوی عہدہ) ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اغوا ہونے والے تیس میں سے اٹھارہ ملازمین کو اغواکاروں نے شدید تشدد کر کے رہا کردیا ہے جبکہ بارہ ملازمین ابھی بھی ان کے پاس ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اغواکاروں نے ابتداء میں مغوی ملازمین کی رہائی کے لیئے ڈیڑھ کروڑ روپے تاوان کا مطالبہ بھی کیا۔ میاں خان کا کہنا تھا کہ تنازعہ اس وقت شروع ہوا جب ان کی کمپنی نے کچھی کینال کی تعمیر کے لیئے مذکورہ گورچانی سردار کی زمین سے پتھر اٹھانا ترک کر دیا کیونکہ انہوں نے ایک لوڈ کی قیمت دو سو روپے سے بڑھاتے ہوئے پہلے ایک ہزار روپے کی اور پھر ڈیڑھ ہزار روپے کر دی۔ مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیئے ڈیرہ غازی خان کی صدر پولیس حرکت میں آئی۔ تقریباً ایک گھنٹے کے مذاکرات کے بعد مظاہرین نے کوئٹہ روڈ سے رکاوٹیں ہٹانے پر آمادگی ظاہر کی۔صدر پولیس تھانے کے انچارج ملک لیاقت کے مطابق راجن پور پولیس نے گورچانی قبیلے کے بعض سرکردہ افراد کو رات گئے حراست میں لے لیا تھا جس کے بعد امید ہے کے کنسٹرکشن کمپنی کے مغوی ملازمین کو بحفاظت بازیاب کرا لیا جائے گا۔ راجن پور کے ضلعی پولیس افسر مقصودالحسن سے بارہا رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی لیکن اس میں کامیابی نہ ہو سکی۔ | اسی بارے میں بس اغوا، تیرہ یرغمال23.05.2003 | صفحۂ اول بلوچ قبائل کا پولیس سے تصادم 24.06.2003 | صفحۂ اول راجن پور: گیس پائپ لائن تباہ05 August, 2006 | پاکستان پنجاب میں گیس پائپ لائن پر دھماکہ26 February, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||