مانسہرہ: تودے گرنے سے18ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے زلزلہ سے متاترہ علاقے میں پہاڑی تودے گرنے اور نالوں میں طغیانی کے باعث کم از کم اٹھارہ افراد ہلاک اور پانچ زخمی ہوگئے۔ ہلاک ہونے والوں میں کئی بچے بھی شامل ہیں ۔ مرنے والوں کا تعلق صوبہ سرحد کے علاقوں ڈاڈر، الائی اور بالا کوٹ سے ہے۔ ضلع مانسہرہ میں ڈسٹرکٹ پولیس افسر وقاص نذیر نے بی بی سی کو بتایا کہ مانسہرہ میں واقع ڈاڈر گاؤں میں دس افراد اس وقت ہلاک ہوگئے جب گزشتہ رات زلزلہ متاثرین کی ایک خیمہ بستی مٹی کے تودوں کی زد میں آ گئی ۔ ہلاک ہونے والوں میں چار بچے بھی شامل ہیں اور پولیس حکام کا کہنا ہے تمام لوگوں کی لاشیں نکال لی گئی ہیں۔ اس واقعہ میں پانچ افراد زخمی بھی ہوئے جن کو ہسپتال میں منتقل کیا گیا ہے ۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ کوئی باقاعدہ خیمہ بستی نہیں تھی جو تودوں کے زد میں آئی البتہ کچھ دن قبل ڈاڈر میں کچھ خاندانوں نے تودوں کے خطرے کے پیش نظر اس مقام پر خیمے لگائے تھے اور وہاں منتقل ہوئے تھے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ڈاڈر کو جانے والی سڑک تودے گرنے کی وجہ سے بند ہوچکی ہے اور اس کو کھولنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ پولیس کا یہ بھی کہنا ہے ضلع بٹ گرام میں الائی کے مقام پر بھی نالے میں طغیانی کے باعث کم از کم پانچ افراد ہلاک ہوئے ہیں اور مانسہرہ کے ایک دوسرے گاؤں بالاکوٹ میں تین افراد دریائے کہنار میں بہہ گئے۔ حکام کا کہنا ہے کہ صوبہ سرحد میں متاثرہ علاقوں میں خمیہ بستیوں کو بھی زبر دست نقصان پہنچا ہے اور اور بہت سارے خیمے اکھڑ گئے ہیں اور ان علاقوں کی کئی سڑکیں تودے گرنے کی وجہ سے بند ہوچکی ہیں ۔ | اسی بارے میں برفانی تودے، ہلاکتوں میں اضافہ12 February, 2005 | پاکستان تودے گرنے سے بارہ زلزلہ متاثرین ہلاک24 July, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||