خاتون عالم دین کی موت کی تحقیات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے صوبہ سرحد کے ضلع نوشہرہ میں جوان سال خاتون عالم دین کی پر اسرار ہلاکت کی انکوائری کا حکم دیا ہے۔ چیف جسٹس نے خاتون عالم دین کی پر اسرار ہلاکت کے بارے میں چھپنے والی اخباری خبروں کا نوٹس لیتے ہوئے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نوشہرہ کو ہدایت کی ہے کہ موضع خٹ کلے نوشہرہ میں چند روز قبل پراسرار حالات میں ہلاک ہونے والی عالم دین ساجدہ گل کے موت کی تحقیقات کی جائے اور اصل حقائق کا پتہ لگایا جائے۔ چیف جسٹس نے اس ضمن میں تمام ریکارڈ کو فوری طور پر قبضے میں لینے کی بھی ہدایت کی ہے۔ اخباری اطلاعات کے مطابق بیس سالہ شادی شدہ خاتون ساجدہ گل نےچند روز قبل اپنے گھر میں خودکشی کی تھی۔ پولیس اور پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق ساجدہ گل نے کیل سے رسی باندھ کر گلے میں پھندہ ڈالا کر اپنی زندگی کا خاتمہ کیا۔ تاہم پیر کے روز ان کے بھائیوں نے نوشہرہ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مرحومہ کے ساس، سسر اور مقامی پولیس پر ان کی قتل کا الزام لگایا۔ مرحومہ کے بھائیوں کا کہنا تھا کہ ان کی بہن نے خودکشی نہیں کی بلکہ ان کو قتل کروایا گیا اور اس قتل میں ان کی ساس ، سسر کے علاوہ تھانہ آضاخیل کے اہلکار بھی ملوث ہیں۔ خٹ کلے کی رہنے والی ساجدہ گل نے دینی علوم کی تعلیم حاصل کی تھی اور وہ ایک مقامی مدرسے میں معلمہ تھی۔ وہ ایک بچے کی ماہ بھی تھی۔ ان کی پراسرار موت اور اس کے بعد کے واقعات کو مقامی اخبارات میں نمایاں طورپر شائع کیا جا رہا ہے۔ | اسی بارے میں پشاور: طلبہ کےدرس قرآن پر پابندی20 May, 2006 | پاکستان چیف جسٹس کا ’دماغی معائنہ‘06 September, 2003 | پاکستان سپریم کورٹ کا از خود نوٹس21 June, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||