تھر: چوڑہ، گھاگھرا پہننے کا رواج ختم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صوبہ سندھ میں تہذیب اور ثقافت کے حوالے سے اپنی مخصوص شناخت رکھنے والے خطے تھر میں مہنگائی کی وجہ سے خواتین میں روایتی پہناوے گھاگھرا اور بازوں میں چوڑے پہننے کا رواج ختم ہوتا جا رہا ہے۔ تھری خواتین جو عام طور پر گھاگھرا پہنتی اور بازوں کو چوڑوں سے سجاتی تھیں اب انہوں نے یہ سب چیزیں پہننی ترک کر دی ہیں۔ کئی پشتوں سے گھاگھرے اور چنری کی رنگائی کا کام کرنے والے موہن لال کھتری کا کہنا ہے کہ گھاگھرے کی خریداری میں کمی کی وجہ سے اب یہ کام ختم ہورہا ہے۔ گھاگھرے اور چنری کی بڑھتی قیمتوں کے بارے میں موہن لال بتاتے ہیں کہ گھاگھرے کی رنگائی میں استعمال ہونے والی اشیاء کی قیمت بڑھ گئی ہے جس وجہ سے اس کی قیمت میں اضافہ ہوا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ نوجوان نسل اب گھاگھرا پہننا پسند نہیں کرتی اب صرف یہ شادی کے موقع پر ہی پہنا جاتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گھاگھرے کی چوڑائی آٹھ سے نو میٹر ہوتی ہے جبکہ اس کی قیمت بائیس سو سے چار ہزار تک ہے اور جتنی محنت زیادہ ہو گی اس کی قیمت بھی زیادہ ہوتی ہے۔
پڑوسی علاقے راجستھان میں اس لباس کی مقبولیت پر ان کا کہنا تھا کہ وہاں کے لوگ اپنی ثقافت اور لباس کے معاملے میں سخت گیر ہیں اس لیئے ابھی تک گھاگھرا وہاں مقبول ہے۔ چھاچھرو کی ایک عمر رسیدہ خاتون امینت کا کہنا تھا کہ جس قیمت میں ایک گھاگھرا خریدا جاتا ہے اسی قیمت میں قمیص شلوار کے تین چار جوڑے آجاتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے وقت میں گھگھرا کی اتنی زیادہ قیمت نہیں تھی دوسرے اس کے پہننے کے حوالے سے والدین اور سسرال والوں کی سختی ہوتی تھی۔ بھارت کے علاقے مارواڑ سے ہجرت کرکے تھر آنے والے عبداالستار جو کئی برسوں سے چوڑے بنانے کا کام کر رہے ہیں اب اس کام کے مستقبل سے مایوس ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ چوڑے پہننے کے رواج میں پچھہتر فیصد کمی آئی ہے۔ خواتین اسے پہننا اب فضول سمجھتی ہیں اور اکثر خواتین اسے صرف شادی بیاہ کے موقع پر ہی پہنتی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پہلے زمانے میں ان چوڑوں کی بڑی قیمت اور قدر تھی اور یہ ہاتھی دانت سے بنائے جاتے تھے مگر آج کل یہ پلاسٹک سے بنائے جاتے ہیں اور اس کی قیمت اب ایک سو سے دو سو روپے تک پہنچ گئی ہے۔ ان کے مطابق چوڑے کی تین اقسام تھری، سندھی اور مارواڑی ہیں البتہ ماروڑی ڈیزائن خواتین میں زیادہ مقبول ہیں۔
پاکستان اور بھارت دونوں میں یہ چوڑے ہندو اور مسلمان دونوں مذاہب کی خواتین استعمال کرتی ہیں۔ کنواری اور شادی شدہ خواتین کے لیئے الگ الگ چوڑے ہوتے ہیں۔ مھیڑ جو آدھے بازو تک ہوتے ہیں وہ غیر شادی شدہ لڑکیاں پہنتی ہیں جبکہ کھنج شادی شدہ خواتین پہنتی ہیں جس سے پورا بازو ڈھک جاتا ہے۔ ان چوڑوں کا استعمال بہت پرانا ہے موئن جودڑو سے دریافت ہونے والی مورتیوں نے بھی چوڑے پہنے ہوئے ہیں۔ تھر سے تعلق رکھنے والے شاعر جمن دربدر بتاتے ہیں کہ چوڑے کو سہاگ کی نشانی سمجھا جاتا تھا۔ اسے اب مسلمان خاندان نہیں البتہ ہندوں ذاتوں میں ابھی بھی پہنا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک تو نوجوان نسل اس کو پسند نہیں کرتی دوسرے یہاں کچھ مذہبی رجحان کے لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ ہندؤوں کا رواج ہے۔ گھاگھرے کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ گھاگھرا اب مہنگا ہوگیا ہے غریب آدمی کی پہنچ سے زیادہ اس کی قیمت ہے۔ | اسی بارے میں تھر میں کسی کو شکایت نہیں03 August, 2005 | پاکستان تھرپارکر کے نامکمل ٹھاکر 09 February, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||