سعد رفیق پر مزید ایک مقدمہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
متنازعہ کارٹونوں کے احتجاج کے سلسلہ میں زیر حراست مسلم لیگ (نواز گروپ) کے رکن قومی اسمبلی سعد رفیق کی تیسرے مقدمہ میں ضمانت کے بعد انہیں ایک پرانے مقدمہ میں عدالتی ریمانڈ پر حراست میں رکھنے کا حکم دے دیاگیا ہے۔ ایم این اے سعد رفیق جمعہ کے دن قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیئے اسلام آباد میں تھے جہاں سے واپسی پر انہیں لاہور کی کیمپ جیل بھیجا جائے گا۔ اس سال چودہ فروری کو خواجہ سعد رفیق کو متنازعہ کارٹونوں کی اشاعت کے خلاف احتجاج کے دروان میں توڑ پھوڑ اور آگ لگانے کے تین واقعات میں ملوث ہونے کےالزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ ان پر انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ قائم کیے گئے تھے۔ پنجاب اسمبلی اور نگار سینما کو آگ لگانے کے الزامات پر مبنی دو مقدمات میں لاہور ہائی کورٹ نے عدم ثبوت کی بنا پر انہیں ضمانت پر رہا کردیا تھا۔ لوئر مال پولیس سٹیشن کو آگ لگانے کے تیسرے مقدمہ میں جمعہ کو انسداد دہشت گردی کے جج زوار احمد نے انہیں اور مسلم لیگ(ن) پنجاب کے جنرل سیکرٹری زعیم قادری کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا۔ زعیم قادری کو جمعہ کو سہ پہر جیل سے رہا کر دیا گیا۔ تاہم پولیس نے انسداد دہشت گردی کے انتظامی جج غلام رسول سے سعد رفیق کا ایک دو سال پرانے مقدمہ میں چودہ روز کا عدالتی ریمانڈ حاصل کرلیا۔ یہ مقدمہ لوہاری گیٹ پولیس میں درج ہے جس میں سعد رفیق پر چودہ مئی سنہ دو ہزار چار کو پارٹی کے صدر شہباز شریف کی لاہور آمد کے موقع پر جلوس نکالنے، پولیس پر پتھراؤ کرنے اور لوگوں کومشتعل کر کے بھاگ جانے کا الزام ہے۔ سعد رفیق کے وکیل رانا مشہود کا کہنا ہے کہ ہمیں خدشہ ہے کہ حکومت اس چوتھے مقدمہ کے بعد سعد رفیق پر مزید مقدمات بھی بنا رہی ہے تاکہ وہ انہیں جیل میں رکھ سکے۔ | اسی بارے میں ہنگامہ آرائی: سعد رفیق کی ضمانت25 April, 2006 | پاکستان سعد رفیق کی ضمانت منظور24 April, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||