BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 20 March, 2006, 11:40 GMT 16:40 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پشاور کی عظمتِ رفتہ کی تلاش

گنج گیٹ کی تعمیرِ نو
نئے گیٹ کی محراب مسجد کے طرز کی ہے
پاکستان کے قدیم ترین شہروں میں شمار ہونے والے شہر اور صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور کی انتظامیہ نے شہر کی عظمتِ رفتہ کی دوبارہ بحالی کی خاطر شہر کے داخلی دروازے دوبارہ تعمیر کرنے کے منصوبے پر عمل درآمد شروع کیا ہے۔

اس سلسلے میں آغاز ’گنج گیٹ‘ کی تعمیر کے کام سے ہوا ہے تاہم کئی شہریوں کو خدشہ ہے کہ بحالی کے اس کام میں ماضی کے طرزِ تعمیر اور نمونے کا خیال نہیں رکھا جا رہا ہے۔

قدیم پشاور شہر کو حملہ آوروں اور لٹیروں سے بچانے کی خاطر اس کے گرد ایک فصیل تعمیر کی گئی تھی جس میں اس چھوٹے لیکن معاشی طور پر خوشحال شہر میں داخل ہونے کے لیئے سولہ چھوٹے بڑے دروازے رکھے گئے تھے۔

رفتہ رفتہ اس شہر کے باسی اتنے مصروف یا بےحس ہوتے گئے کہ یہ فصیل ٹوٹتی گئی اور دروازے غائب ہوتے رہے اور اب سولہ میں سے صرف دو ہی دروازے بچ پائے ہیں اور فصیل کسی ایک مقام پر شاید باقی ہو لیکن وہ بھی زیادہ دنوں کی مہمان دکھائی نہیں دیتی۔

تاہم اب مقامی انتظامیہ نے کئی دروازوں کی دوبارہ تعمیر کا اعلان اور انتظام کیا ہے۔ اس سلسلے میں پہل گنج گیٹ سے ہوئی ہے۔ اس دروازے کو انیس سو بیاسی میں مقامی انتظامیہ نے ٹریفک کے بڑھتے ہوئے مسائل کی وجہ سے منہدم کر دیا تھا تاہم ماہرین کے خیال میں نئی تعمیر میں پرانے ڈیزائن کا خیال نہیں رکھا جا رہا ہے۔

اس بارے میں گنج کے مقامی رہائشی افراد سے بات کی گئی تو سب نئے دروازے کی تعمیر پر خوش دکھائی دیئے لیکن ڈیزائن پر ملا جلا ردعمل سامنے آیا۔

گنج گیٹ میں کئی نسلوں سے رہائش پذیر سلیم اقبال عوان کا کہنا تھا کہ پرانا دروازہ نئے سے بہتر تھا۔ ’وہ پرانے لوگوں کے ہاتھ کی نشانی تھی۔ آثار قدیمہ تھا مغلیہ دور کا‘۔

جب ان سے دریافت کیا گیا کہ جب پرانے دروازے کو توڑا جا رہا تھا تو اس وقت شور کیوں نہیں کیا گیا تو ان کا جواب تھا کہ ’وہ تو ہمارا دل توڑ رہے تھے لیکن سرکاری افسروں کے سامنے بس نہیں چلتا تھا‘۔

دروازے کی صفائی کے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ’یہ تو ہماری ثقافت ہے اور گنج کے لوگوں کا ماننا ہے کہ اسے صاف ستھرا رکھا جائے‘۔

گنج دروازے کی تعمیر میں مصروف عبدالواحد کا اس نئے دروازے کے ڈیزائن کے بارے میں کہنا تھا کہ وہ ’آسیہ گیٹ‘ کی طرز پر اسے تعمیر کر رہے ہیں لیکن جب انہیں بتایا گیا کہ’ آسیہ گیٹ‘ اور اس دروازے میں بہت فرق ہے تو انہوں نے کہا کہ’ کچھ عناصر اس کے ہیں، کچھ ہم خود بنا رہے ہیں‘۔

مقامی صحافی بشیر حسین امام کا کہنا ہے کہ نئے گیٹ کی محراب مسجد کے طرز کی ہے جو کہ پرانے گیٹ سے بلکل مختلف ہے۔ انہوں نے کہا کہ’اس دروازے کو دور سے دیکھنے پر ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کسی مسجد کی محراب ہو‘۔

نئی تعمیر میں پرانے تقاضوں کو مدنظر نہ رکھنے کی شکایت پر پشاور کے ٹاؤن ون کے ناظم شوکت علی نے کہا کہ یہ دروازہ مقامی رکن صوبائی اسمبلی ظاہر شاہ تعمیر کروا رہے ہیں لیکن باقی کے دروازے سرکی، بجوڑی، سرد چاہ اور کابلی وہ خود بنوائیں گے اور وہ ماضی کے طرح کے ہی ہوں گے۔ انہوں نے بتایا کہ ان دروازوں کو رات کو منور کرنے کا بھی انتظام ہوگا۔

پشاور کے باسی اس عظمتِ رفتہ کی بحالی پر خوش ہیں تاہم ان کو خدشہ ہے کہ اس نئی تعمیر سے کہیں پرانے خدوخال ہمیشہ کے لیئے ہی نہ مٹ جائیں۔

اسی بارے میں
پشاور: ماضی مزار ہو رہا ہے
13 September, 2003 | صفحۂ اول
گداگروں کی داد رسی
10 November, 2004 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد