| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
پشاور: ماضی مزار ہو رہا ہے
دو ہزار سال سے زائد عرصے پر محیط قدیم تاریخ رکھنے والا شہرِ پشاور آہستہ آہستہ اپنی ماضی کی نشانیاں کھو رہا ہے۔ کئی اہم آثار قدیمہ تاریخ کے صفحات پر ہی رہ گئے ہیں اور ان کا اب کوئی وجود نہیں رہا۔ یہ رجحان جاری ہے اور بظاہر کسی کو اس نقصان کااحساس بھی نہیں۔ کسی بھی قدیم شہر کی طرح پشاور کے گرد بھی اس دور کے سکھ اور انگریز حکمرانوں نے آبادی کو حملوں اور ڈاکوؤں سے بچانے کی خاطر ایک فصیل تعمیر کی تھی۔ اس قلعہ نما فصیل سے باہر آنے جانے کے لئے مختلف سمتوں میں سولہ بڑے دورازے رکھے گئے تھے۔ یہ دروازے کابلی، لاہوری، کوہاٹی، گنج، آسامائی، کچہری، ہشتنگری، یکہ توت، سرآسیہ، ریتی، سردچاہ، باجوڑی، رامداس، ڈبگری، نیو رامپورہ اور شرقی کے ناموں سے مشہور ہیں۔ یہ دروازے یا تو اپنی سمت یا پھر جس شہر کو ان سے راستے جائے کرتے تھے مشہور ہوئے۔
سرآسیہ اور سرد چاہ نامی دروازوں کی حالت انتہائی خستہ اور ناگفتہ بہ ہے۔ ان پر آویزاں لاتعداد پوسٹرز، بینرز اور اشتہارات ایک بہت ہی بھدا سا منظر پیش کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان محرابی دروازوں کی ٹوٹی ہوئی اینٹیں اس بات کی واضع عکاسی کرتی ہیں کہ حکومت تو خیر سوئی ہی ہوئی ہے، عوام بھی اس ورثے کی اہمیت سے کچھ زیادہ واقف نہیں۔ اینٹوں کا ڈھانچہ تو موجود ہے لیکن لکڑی کے اصل دروازوں کا نام و نشان ہی نہیں۔ وہ کہاں گئے کسی کو معلوم نہیں۔
لیکن اب وہاں دروازے کے باہر مسافروں کے انتظار میں کھڑے درجنوں رکشے اور تکہ فروش ہی ملیں گے۔ دروازے کے اندر داخل ہوں تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے آپ جدید زمانے کی گہماگہمی چھوڑ چھاڑ کر کسی پرسکون ماحول میں آگئے ہیں۔ اس کی ایک وجہ گاڑیوں کے داخلے پر پابندی بھی ہے۔ اندر تنگ اور پیچیدہ گلیوں کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہوتا ہے کہ اناڑی شخص اپنا راستہ بھول جائے۔ سرآسیہ دروازے کے ساتھ ہی بغل میں چند چھوٹی چھوٹی دوکانیں موجود ہیں۔ ان میں سے ایک کتابوں کی دوکان ہے جسے جہانگیر خان گزشتہ بارہ برسوں سے چلا رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت اور غیر سرکاری تنظیموں کے لوگ کبھی کبھی آکر اس باب کی پیمائش اور تصاویر بنا کر چلے جاتے ہیں لیکن ہوا کچھ نہیں۔ ’نہ حکومت نے اور نہ کسی اور نے ان بارہ سالوں میں اس پر کوئی توجہ دی ہے جس کا نتیجہ ہے کہ یہ شکست وریخت کا شکار ہے۔‘ جب اس سے پوچھاگیا کہ عام لوگ کیوں اس کے پیچھے پڑے ہیں وہ بھی اشتہارات کے ذریعے اسے گندا کر رہے ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ وہ خود لوگوں کو بعض اوقات منع کرتے ہیں لیکن اس کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔
اس دورازے کے اندر گزشتہ دو برسوں سے ایک نجی اسکول چلا رہے مبشر حسین سے پوچھا کہ ایسی صورت حال میں جب شہر کے سولہ میں سے چودہ دروازے تو نہ رہے یہ کیوں بچ گیا تو ان کا کہنا تھا کہ چونکہ اس کی اندر کی گلیاں اتنی تنگ ہیں کہ گاڑیوں کی آمدو رفت نہیں ہوسکتی اس لئے۔ باوجود اس کے کہ پشاور صوبائی دارالحکومت کا درجہ رکھتا ہے لیکن بدقسمتی سے اس کے حکمراں ہمیشہ صوبے کے دیگر علاقوں سے چنے گئے جنہیں اس شہر اور اس کی تاریخ کی اہمیت کا اندازہ ہی نہیں۔ سب سے زیادہ تشویش کی بات جو سامنے آئی ہے وہ یہ ہے کہ صوبائی حکومت کے پاس فل الحال ان درو دیوار کو بچانے کا کوئی منصوبہ زیرغور نہیں۔ صوبہ سرحد کے محکمہ آثار قدیمہ کے ایک اہلکار محمد نعیم قاضی کا ماننا تھا کہ بےشک یہ قیمتی ورثہ ہے جسے بچانے کی ضرورت ہے لیکن فل الحال ان کے علم میں کوئی ایسا منصوبہ تیار نہیں جس کے ذریعے انہیں بچایا جاسکے۔ ’اس میں حکومت کے ساتھ ساتھ عوام کا بھی فرض بنتا ہے کہ ان کو بچانے کی خاطر کام کریں۔‘ یہ ایک الگ بحث ہے کہ کس کا کتنا فرض بنتا ہے اپنے ماضی کی دلکش یادوں کو محفوظ کرنے کا۔ لیکن یہ دروازے سب کی مشترکہ میراث ہیں لہذا ان کے بچاؤ کے لیے سب کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ اس پرانے شہر میں تمام زندگی بسر کرنے والے ایک ستر سالہ بوڑھے ریٹائرڈ پولیس افسر عبدالغفار کا کہنا تھا کہ لوگوں کو ان آثار کی قدروقیمت کا احساس ہی نہیں رونہ باقی چودہ بھی آج موجود ہوتے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| BBC Languages >>BBC World Service >>BBC Weather >>BBC Sport >>BBC News >> | |