گنجےپن کا علاج، پکڑے گئے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان ریلویز کی تاریخ میں چوری کی سب سے بڑی کہی جانے والی واردات میں انتہائی مطلوب پولیس اہلکار کو جنوبی پنجاب کے شہر بہاولپور میں ایک کلینک سے اس وقت گرفتار کر لیا گیا ہے جب وہ وہاں اپنے گنجے سر پر نئے بالوں کی ’ٹرانسپلانٹیشن‘ کے لیے موجود تھا۔ وفاقی وزارت ریلوے نے ملزم محمد نواز واہگہ کی گرفتاری پر دس لاکھ روپے انعام بھی مقرر کر رکھا تھا۔ ملزم نواز کا تعلق ضلع شیخوپورہ کی تحصیل صفدرآباد کے گاؤں چک ایک سو اڑسٹھ آر بی احمد پور کڑکن والا سے بتایا جا رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق دو ماہ قبل دسمبر کے مہینے میں لاہور کے علاقے مغلپورہ میں واقع پاکستان ریلویز کی مرکزی ورکشاپ کے کیش روم سے ملازمین کی ماہانہ تنخواہوں کے سلسلے میں آئی ہوئی ساڑھے تین کروڑ روپے کی رقم غائب پائی گئی تھی۔ ڈیوٹی پر موجود تمام پولیس اہلکار موقع پر بے ہوش پائے گئے تھے جبکہ سپاہی نواز واہگہ کا کوئی اتہ پتہ نہ تھا۔ کیش روم اور سیف کو آری کی مدد سے کاٹ کر رقم اٹھائی گئی تھی۔ بعد میں کی گئی پولیس تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ سپاہی نواز واردات کے روز باقی پولیس اہلکاروں کے لیے اپنے گھر سے کھانا پکوا کر لایا تھا جس میں خواب آور ادویات بھی شامل کی گئی تھیں۔ پولیس ذرائع کے مطابق نواز کے اہل خانہ بھی واردات کے روز سے غائب تھے۔ نواز کی گرفتاری کے لیے محکمہ ریلوے نے پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا کی مدد سے اشتہاری مہم بھی چلا رکھی تھی جبکہ اس دوران اس کے ایک مبینہ ساتھی شہباز کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔ شہباز کے قبضے سے چرائی ہوئی رقم میں سے چالیس لاکھ روپے بھی برآمد کر لیے گئے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ تالے توڑنے کا کام شہباز نے سر انجام دیا تھا۔ حکومت نے ملزم نواز کی گرفتاری کے لیے لاہور ریلوے پولیس کے ایس ایس پی مرزا خالد فاروق کر قیادت میں ایک تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے رکھی تھی۔ تفتیشی افسروں کو معلوم ہوا کہ ملزم نواز مختلف موبائل فون نمبروں کی مدد سے اپنے گاؤں کے کچھ لوگوں اور بعض ساتھی پولیس اہلکاروں کے ساتھ رابطے میں ہے۔
تحقیق کرنے پر معلوم ہوا کہ ملزم بہاولپور سے فون کالز کرتا ہے۔ بہاولپور میں ملزم کو تلاش کرنے کی کوششیں بارآور ثابت نہیں ہورہی تھیں۔ اسی دوران ملزم نواز نے موبائل فون پر کسی کے ساتھ بات کرتے ہوئے ’ہیئر ٹرانسپلانٹیشن‘ کرانے کا ذکر کیا تو پولیس نے بہاولپور کے ایسے تمام کلینکس سے رابطہ کیا جو گنجے پن کا علاج کرتے ہیں۔ ایک کلینک پر موجود ڈاکٹر نے ملزم کی تصویر کی شناخت کرتے ہوئے تفتیش کاروں کو بتایا کہ یہ شخص غالباً فوج میں کرنل ہے اور انہیں کے پاس زیر علاج ہے تاہم وہ اس کی رہائش کے بارے میں نہیں جانتے۔ ڈاکٹر نے پولیس کو بتایا کہ ’کرنل صاحب‘ جمعرات یعنی نو فروری کے روز کلینک پر آئیں گے۔ نو فروری کو گنجہ پن ختم کرانے کے لیے آنے والے کرنل صاحب پولیس کو مطلوب ریلوے پولیس کا سپاہی نواز واہگہ ہی نکلا۔ ملزم نے اپنے چہرے پر پڑے زخم کے ایک پرانے نشان کی پلاسٹک سرجری بھی کرا رکھی تھی۔ تفتیش کاروں نے بتایا ہے کہ ملزم نے چرائی ہوئی رقم میں سے بہاولپور کے علاقے ماڈل ٹاؤں میں اٹھائیس لاکھ روپے میں ایک گھر خرید کیا ہوا تھا جبکہ ایک نئی کار اور موٹر سائیکل بھی اس کے زیر استعمال تھیں۔ پولیس نے ملزم کی بیوی کنول، بیٹی زریں اور بیٹے نعمان کو بھی حراست میں لے لیا ہے۔ ملزم کے بارے معلوم ہوا ہے کہ فوج سے ریٹائرڈ ہونے کے بعد اس نے ریلوے پولیس میں ملازمت اختیار کی اور کراچی میں تعینات ہوا۔ کراچی میں مبینہ طور پر بدعنوانیوں میں ملوث ہونے کے سبب نوکری سے برخاست کر دیا گیا لیکن بعد میں اپیل کرنے پر بحال ہوا اور مغلپورہ ورکشاپ کے کیش روم میں تعینات کر دیا گیا۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزم کے قبضے سے دو کروڑ تیس لاکھ روپےکی رقم بھی برآمد کر لی گئی ہے۔ | اسی بارے میں سندھ: ’ریٹائرڈ‘ ڈاکوؤں کی جاگیر02 October, 2004 | پاکستان ججوں کا اغواء:ضلع کی ناکہ بندی04 December, 2004 | پاکستان موبائیل فون ’چور‘ دو لڑکیاں گرفتار 03 August, 2005 | پاکستان ڈاکو دس قیدیوں کو اپنے ساتھ لے گئے 10 September, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||