پشاور: شائقین پر لاٹھی چارج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان اور بھارت کے درمیان پشاور کے ارباب نیاز سٹیڈیم میں کھیلے جانے والے پہلے ایک روزہ میچ کے دوران اندر کھلاڑی اور باہر پولیس ’چوکے چھکے‘ لگا کر شائقین کو ’محظوظ‘ کرتی رہی۔ اگر صوبہ سرحد کے کرکٹ شائقین کے ذوق و شوق کو دیکھا جائے تو آج کے میچ سے ثابت ہوتا ہے کہ صرف سولہ ہزار تماشائیوں کی گنجائش کاحامل یہ میدان کسی طرح بھی کم از کم پاکستان اور بھارت کے درمیان کھیلے جانے والے میچ کےلیئے موضوع نہیں۔
تقریبا تیرہ ہزار ’خوش قسمت‘ ٹکٹ کے حامل تماشائی تو سٹیڈیم کےاندر تمام میچ میں موجود رہے لیکن ہزاروں شائقین ایسے بھی تھے جو ٹکٹ ہونے کے باوجود باہر پولیس کی لاٹھیاں کھانے پر مجبور تھے۔ پولیس کی بار بار لاٹھی چارج کے باوجود وہ ٹس سے مس نہ ہوئے اور اندر جانے کا مطالبہ کرتے رہے۔ سٹیڈیم گیٹ نمبر دو، تین اور چار کے باہر صورتحال سب سے زیادہ خراب تھی جو سو روپے کے ٹکٹ کے حامل افراد کے لیے مختص تھے۔ ہزاروں شائقین جن میں اکثریت نوجوانوں کی تھی ہاتھوں میں ٹکٹ تھامے گھنٹوں اس امید میں کھڑے رہے کہ شاید حالات کچھ بہتر ہوں اور انہیں اندر جانے دیا جائے لیکن ایسانہ ہوا چونکہ سٹیڈیم پہلے ہی بھر چکا تھا۔
اب معلوم نہیں کہ اس کی وجہ ’فری‘پاسسز تھے،گنجائش سے زیادہ ٹکٹوں کی فروخت یا پھرکچھ اورلیکن اندرجگہ ہوتی توکوئی جاتا۔ غصے سے بھرے کئی شائقین نے،جن میں ڈیرہ اسماعیل خان جیسے دوردراز علاقے سے آئے ہوئے یاسراور بشیر بھی تھے، پولیس پر رشوت لے کر یاسفارش پر لوگوں کو اسٹیڈیم میں داخل کروانے کے الزامات لگائے۔ کچھ افراد کےخیال میں اس کی ایک وجہ بڑی تعداد میں جعلی ٹکٹ بھی ہوسکتے ہیں۔ کچھ افرادنے ہاتھ میں ایسے کاغذ کے ٹکڑے تھے جو اصل ٹکٹ کی فوٹو کاپی معلوم ہوتے تھے۔ اگرچہ بنک میں ٹکٹوں کی فروخت دو فروری کو صرف چندہی گھنٹوں میں ختم ہوگئی تھی مگرسٹیڈیم کے باہر آخری وقت تک جاری رہی۔ سو روپے کا ٹکٹ دو سے لے کر پانچ سو تک بک رہا تھا۔ کئی شائقین نے مطالبہ کیا کہ حکام کو صوبہ سرحد کی آبادی اور لوگوں کا شوق دیکھتے ہوئے انیس سو چوراسی میں تعمیر کردہ اس سٹیڈیم میں جلد از جلد توسیع کرنی چاہیے۔ | اسی بارے میں انیس سال بعد سیریز کی جیت01 February, 2006 | کھیل اکمل اور رزاق میچ چھین کر لے گئے01 February, 2006 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||