بس دھماکہ: 12 ہلاک، 13 زخمی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کوئٹہ کے قریب بس دھماکے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد تیرہ ہوگئی ہے جبکے انیس افراد زخمی ہیں۔ ادھر جمہوری وطن پارٹی کے جنرل سیکرٹری آغا شاہد بگٹی نے اس واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ اس وقت سول ہسپتال میں تین زخمیوں کی حالت نازک بتائی گئی ہے جبکہ ایک زخمی رات کے وقت ہسپتال میں دم توڑ گیا ہے۔ ایسی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں کہ ہلاک ہونے والے افراد میں دو فوجی شامل ہیں۔ یہ بس سدا بہار کمپنی کی تھی اور سدا بہار بس ٹرمینل شہر کا جدید ٹرمینل سمجھا جاتا ہے جہاں بس میں بیٹھنے سے پہلے مسافروں کی تلاشی لی جاتی ہے اور سامان چیک کیا جاتا ہے اس کے باوجود اس طرح کا واقعہ پیش آنا حیران کن امر ہے۔ مستونگ کے سپرنٹنڈنٹ پولیس حامد شکیل نے کہا ہے کہ بعض لاشوں کے جسم کے حصے دور دور گرے پڑے تھے۔ انھوں نے کہا کہ اس واقعہ کے بارے تفتیش کی جا رہی ہے ۔ جمہوری وطن پارٹی کے جنرل سیکرٹری آغا شاہد بگٹی نے کہا ہے کہ وہ اس واقعہ کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ حکومت نے تمام اداروں کو سیاستدانوں کے پیچھے لگا رکھا ہے اور ادھر شر پسند عناصر اس طرح کی کارروائیاں کر رہے ہیں۔ انھوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ہو سکتا ہے کے صوبہ بلوچستان میں جاری فوجی کارروائی کو وسعت دینے کیے اس طرح کی کارروائی کی گئی ہے لیکن ایسا نہیں لگتا کہ اس بارے میں صحیح حقائق کبھی سامنے لائے جائیں گے۔ ادھر ڈیرہ بگٹی سے عبدالصمد لاسی نے کہا ہے کہ نواب اکبر بگٹی اور ان کے ساتھیوں کے خلاف تین اور مقدمات درج کر لیے ہیں جو بم دھماکوں اور راکٹ باری وغیرہ کے حوالے سے ہیں۔ یاد رہے اس سے پہلے نواب اکبر بگٹی اور ان کے ساتھیوں کے خلاف مختلف دنوں میں آٹھ مختلف مقدمات درج کیے ہیں۔ ڈیرہ بگٹی اور سوئی میں حالات کشیدہ رہے ہیں جہاں بعض مقامات سے دھماکوں کی آوازیں سنی جا سکتی ہیں۔ | اسی بارے میں سوئی پائپ لائن میں دھماکہ12 January, 2006 | پاکستان بلوچستان: ریل کی پٹڑی پر دھماکہ26 January, 2006 | پاکستان بلوچستان: پانی کی پائپ لائن پر دھماکہ28 January, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||