BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 24 November, 2005, 16:28 GMT 21:28 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کراچی دھماکے کا ایک ملزم رہا

کراچی بم دھماکہ
پولیس نے بلوچ لبریشن آرمی پر اس دھماکے میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا تھا
کراچی بم دھماکے میں گرفتار ایک مشتبہ ملزم کو ثبوت کی عدم دستیابی کی بنیاد پر رہا کر دیا گیا ہے۔

عبدالجبار بلوچ کو دیگر ملزمان عبدالعزیز خان اور منگلا خان کےساتھ گرفتار کیا گیا تھا اور پولیس نے ان کی گرفتاری دھماکے کے دو دن بعد ظاہر کی تھی۔

تفتیشی پولیس نےملزم عزیز خان اور منگلا خان کو انتہائی سخت پہرے میں مزید ریمانڈ کے لیے جمعرات کے روز انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت کے جج عارف خلجی کی عدالت میں پیش کیا۔

کیس کے تفتیشی افسر محمد طارق نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان کی شناختی پریڈ میں عینی شاہد نے عزیز خان اور منگلا خان کو شناخت کیا ہے مگر عبدالجبار کی شناخت نہیں ہو سکی اس لیے عبدالجبار کو ثبوت کی عدم دستیابی کی بنیاد پر آزاد کیا جائے۔

عدالت نےعبدالجبار بلوچ کو آزاد کرنے کا حکم دیا جبکہ ملزمان کو تیس نومبر تک پولیس ریمانڈ پر دے دیا۔

یاد رہے کہ اس سے قبل پولیس نے عدالت کو بتایا تھا کہ ملزمان کوگلشن اقبال پولیس نے ان کے حوالے کیا ہے۔ پولیس کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزمان کا تعلق بلوچستان لبریشن آرمی سے ہے اور عزیز خان سے دو کلاشنکوف، دو دستی بم، ایک کلو بارود جبکہ عبدالجبار اور منگلا خان سے دو ٹی ٹی پستول برآمد ہوئے ہیں۔

یاد رہے کہ کراچی میں گزشتہ ہفتے بدھ کے روز ہونے والے بم دھماکے میں تین افراد ہلاک اور اٹھارہ زخمی ہوگئے تھے۔

اسی بارے میں
کراچی بم دھماکے میں تین ہلاک
15 November, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد