کراچی دھماکے کا ایک ملزم رہا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی بم دھماکے میں گرفتار ایک مشتبہ ملزم کو ثبوت کی عدم دستیابی کی بنیاد پر رہا کر دیا گیا ہے۔ عبدالجبار بلوچ کو دیگر ملزمان عبدالعزیز خان اور منگلا خان کےساتھ گرفتار کیا گیا تھا اور پولیس نے ان کی گرفتاری دھماکے کے دو دن بعد ظاہر کی تھی۔ تفتیشی پولیس نےملزم عزیز خان اور منگلا خان کو انتہائی سخت پہرے میں مزید ریمانڈ کے لیے جمعرات کے روز انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت کے جج عارف خلجی کی عدالت میں پیش کیا۔ کیس کے تفتیشی افسر محمد طارق نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان کی شناختی پریڈ میں عینی شاہد نے عزیز خان اور منگلا خان کو شناخت کیا ہے مگر عبدالجبار کی شناخت نہیں ہو سکی اس لیے عبدالجبار کو ثبوت کی عدم دستیابی کی بنیاد پر آزاد کیا جائے۔ عدالت نےعبدالجبار بلوچ کو آزاد کرنے کا حکم دیا جبکہ ملزمان کو تیس نومبر تک پولیس ریمانڈ پر دے دیا۔ یاد رہے کہ اس سے قبل پولیس نے عدالت کو بتایا تھا کہ ملزمان کوگلشن اقبال پولیس نے ان کے حوالے کیا ہے۔ پولیس کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزمان کا تعلق بلوچستان لبریشن آرمی سے ہے اور عزیز خان سے دو کلاشنکوف، دو دستی بم، ایک کلو بارود جبکہ عبدالجبار اور منگلا خان سے دو ٹی ٹی پستول برآمد ہوئے ہیں۔ یاد رہے کہ کراچی میں گزشتہ ہفتے بدھ کے روز ہونے والے بم دھماکے میں تین افراد ہلاک اور اٹھارہ زخمی ہوگئے تھے۔ | اسی بارے میں کراچی بم دھماکے میں تین ہلاک15 November, 2005 | پاکستان ’بلوچ لبریشن آرمی کے شواہد نہیں‘ 17 November, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||