لاری جانی کی اہم ملاقاتیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایران کے اعلی ترین جوہری مذاکرات کار علی لاری جانی نے پاکستان کے رہنماؤں سے ایران کے جوہری معاملات پر بات چیت کی ہے جس کے بعد ان کا کہنا ہے کہ ایران اور پاکستان دونوں ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں تنازعے کو عالمی جوہری ادارے آئی اے ای اے کے اصولوں کی بنیاد پر پرکھنے پر متفق ہیں۔ ان کے مطابق ایران کا جوہری پروگرام خطے کے لیے خطرہ نہیں ہے اور ایران اس معاملے پر یورپی یونین کے ساتھ مذاکرات کر رہا ہے۔ علی لاری جانی بدھ کو ایک روزہ سرکاری دورے پر اسلام آباد پہنچے۔ ان کا دورہ ایران کے جوہری پروگرام کے لیے غیر ملکی حمایت حاصل کرنے کے سلسلے کی ایک کڑی بتایا جا رہا ہے۔ پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان نعیم خان نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ علی لاری جانی پاکستان کو ایران اور یورپی یونین کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے بارے میں اعتماد میں لیں گے۔ علی لاری جانی نے اس سلسلے میں گذشتہ ماہ چین اور بھارت کا دورہ بھی کیا تھا۔ انہوں نے پاکستانی وزیر اعظم شوکت عزیز سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایران اپنا پر امن جوہری پروگرام جاری رکھے گا اور اپنے جوہری پروگرام کے بارے میں غلط فہمیاں دور کرنے کے لیے ہر ممکن تعاون کرے گا۔
علی لاری جانی نے یہ بھی بتایا کہ انہیں ایران کے صدر کی طرف سے واضح ہدایات ہیں کہ وہ ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں مذاکرات اس وقت تک جاری رکھیں جب تک اس مسئلے کا پر امن حل نہیں نکلتا۔ علی لاری جانی نے کہا کہ انہوں نے پاکستانی وزیر اعظم کو ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں اپنے مؤقف سے آگاہ کیا۔ پاکستانی وزیر اعظم شوکت عزیز نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان جوہری پھیلاؤ کے خلاف ہے مگر اس کا موقف ہے کہ ہر ملک کو جوہری توانائی کے پر امن استعمال کی اجازت ہونی چاہیے جو آئی اے ای اے کے مروج کردہ اصولوں کے مطابق ہو۔ لاری جانی نے پاکستانی وزیر خارجہ خورشید قصوری سے با ضابطہ مذاکرات بھی کیے ہیں جس کے بعد انہوں نے صدر جنرل پرویز مشرف سے بھی ملاقات کی۔ ایران کے اعلی ترین جوہری مذاکرات کار نے اس ہفتے کے اوائل میں پاکستان آنا تھا مگر انھوں نے اپنے دورے کو آخری وقت میں مؤخر کر دیا تھا جس کے بعد قیاس آرائیوں نے جنم لیا تھا کہ ایرانی حکومت نے پاکستان اور اسرائیل کے درمیان تعلقات سے نالاں ہو کر یہ دورہ مؤخر کیا تھا۔ تاہم پاکستان کے دفتر خارجہ نے ان اطلاعات کی تردید کی تھی۔ لاری جانی گذشتہ ماہ بھارت بھی گئے تھے جہاں انھوں نے بھارتی رہنماؤں سے بات چیت کی تھی۔ پاکستان نے اس سال اپریل میں جوہری سینٹریفیوجز بھی ویانا میں عالمی جوہری ادارے آئی اے ای اے بھجوائے تھے جس کا مقصد ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں آئی اے ای اے کی مدد کرنا مقصود تھا۔ ان سینٹریفیوجز کے معائنے کی رپورٹ ابھی تک منظر عام پر نہیں آئی ہے۔ پاکستان نے یہ سینٹریفیوجز صدر جنرل پرویز مشرف کے اس بیان کے بعد بھجوائے تھے جس میں انہوں نے اعتراف کیا تھا کہ پاکستان کے جوہری پروگرام کے بانی کہلائے جانے والے ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے ایران کو اس کے جوہری پروگرام میں مدد دینے کے لیے جوہری سینٹریفیوجز اور دیگر آلات بھجوائے تھے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||