BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 29 August, 2005, 11:13 GMT 16:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پشاور کے سائیکل بردار’سمگلر‘

سائیکل پھیرے باز
’ مشکل کام ہونے کے باوجود وہ دن میں دو تین پھیرے لگا لیتا ہوں‘
پشاور میں گاڑی میں سفر کے دوران اگر کوئی سائیکل یا موٹر سائیکل سوار اپنے کیرئیر پر بھاری سامان باندھے سرپٹ آگے نکل جائے تو اس میں حیرت کی کوئی بات نہیں۔ یہ کوئی سائیکلوں کی دوڑ نہیں بلکہ غیرملکی مال شہر کے بازاروں تک پہنچانے کا کاروبار کرنے والے ہیں۔

صوبائی دارلحکومت پشاور کی چند مخصوص سڑکوں پر روزانہ ایسے سائیکل اور موٹر سائیکل سوار ملیں گے جو بڑی تعداد میں غیرملکی سامان لادے سرپٹ بھاگتے نظر آئیں گے۔ یہ لوگ سائیکل یا موٹر سائیکل اتنی تیز بھگاتے ہیں کہ شاید موت کے کنویں والے بھی نہ چلاتے ہوں۔

انہیں دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے ان پر ٹریفک کا کوئی قانون لاگو نہیں ہوتا۔ سرخ بتی پر بھی کنارے سے نکل جائیں گے۔ سائیکل یا موٹر سائیکل کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ سڑک پر اگر خطرہ ہو یعنی کسٹم یا پولیس تو یہ لوگ چھوٹی گلیوں سے نکل جاتے ہیں۔

درجنوں کارٹن اور کمبل لادے یہ باربردار افراد چند روپوں کی مزدوری کے عوض غیرملکی سامان قبائلی علاقے کے ساتھ سرحد پر واقع کارخانوں اور مارکیٹ سے پشاور کے بازاروں تک پہنچاتے ہیں۔

ان میں اکثریت افغان پناہ گزینوں کی ہے۔ دلاور خان بھی ایسے ہی ایک شخص ہیں۔ میں نے ان سے اس وقت بات کی جب وہ تقریبا تیرہ کمبل سائیکل پر لادے سخت گرمی میں بھاگے جا رہے تھے۔

News image

میں نے ان سے پوچھا کہ ان کمبلوں کی باربرداری کی کتنی مزدوری ملے گی توان کا کہنا تھا کہ قریبی صدر پہنچانے کے ایک سو بیس روپے اور دور اڈے تک کے ڈیڑھ سو۔

ایک اور سائیکل سوار افغان وحید اللہ سے جب دریافت کیا گیا کہ کمبلوں کے علاوہ کیا کچھ لایا جاتا ہے تو اس نے بتایا کہ غیرملکی سگریٹ، گاڑیوں کے پرزے، کپڑا، صابن اور سیل غرض کہ ہر چیز۔

اس نے کہا کہ ان کے قاعدے کے مطابق اگر کسٹم والوں نے پکڑ لیا تو یہ ان کی ذمہ داری نہیں ہوگی بلکہ مال کے مالک کی ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ ہم اپنی چارد جھاڑ کر آ جائیں گے پھر مالک جانے اور اس کا کام‘۔

وحید کا ماننا تھا کہ مشکل کام ہونے کے باوجود وہ دن میں دو تین پھیرے لگا لیتا ہے۔ اس نے کہا کہ یہ بھاگ دوڑ نہ کریں تو کیا کریں؟ دوسرا کوئی کام ان کے پاس نہیں ہے۔

سائیکل اور موٹر سائیکل کے علاوہ چند معذور افراد بھی اپنی ٹرائی سائیکل پر یہ دھندا کرتے نظر آتے ہیں۔

کسٹم اور پولیس کے ساتھ ان مال برداروں کی آنکھ مچولی برسوں سے جاری ہے۔ اکثر لڑائی اور مارکٹائی بھی ہوجاتی ہے لیکن جہاں چند روپوں کا فائدہ ہو اور دوسرا کوئی روزگار میسر نہ ہو تو شاید سخت سے سخت اقدامات کے باوجود ان سائیکل سواروں کی یہ دوڑ جاری رہے گی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد