ائرکولروں کے کاروبار میں تیزی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں غیرمعمولی گرمی کی لہر کے آتے ہی اس سے بچاؤ کی کوششوں شروع ہوجاتی ہیں۔ امیر ائرکنڈیشن کمروں یا پھر ٹھنڈے پہاڑی علاقوں کا رخ کر لیتے ہیں لیکن جو یہ سب کچھ نہیں کر سکتے وہ پنکھے یا پھر روم کولر خرید لیتے ہیں۔ آج کل پاکستان میں گرمی کی لہر کی وجہ سے روم کولروں کا جیسے غریبوں کا ائرکنڈیشن بھی کہتے ہیں کاروبار چمک اٹھا ہے۔ روم کولر کا شور اپنی جگہ لیکن یہ غریب عوام کو موسم کی گرمی اور واپڈا کے بجلی کے بلوں سے کسی حد تک بچانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ اسی لیے ہر سال موسمِ گرما میں ان کی خریدو فروخت میں زبردست اضافہ ہوجاتا ہے۔ ملک میں جاری گرمی کی شدید لہر نے کئی لوگوں کو نئے کولر خریدنے پر مجبور کر دیا ہے۔ ایسے ہی ایک خریدار پشاور میں ادویات کا کاروبار کرنے والے فضل رحمان ہیں جن سے ملاقات روم کولر بنانے والے ایک کارخانے میں ہوئی۔ ان سے اس خریداری کی وجہ دریافت کی تو انہوں نے کہا کہ ائرکنڈیشن کا خرچہ ان جیسے کم آمدن والے لوگ برداشت نہیں کر سکتے ہیں۔ ان کا ماننا تھا کہ شور کے علاوہ ان کولروں کی افادیت حبس والے موسم میں کم ہو جاتی ہے۔ لیکن یہ منفی پہلو ائرکنڈیشن کی قیمت اور اس کے بجلی کے خرچے پر بھاری ہیں۔ پشاور میں جگہ جگہ روم کولر کے کارخانے قائم ہوگئے ہیں۔ کوہاٹی گیٹ کے علاقے میں گزشتہ آٹھ برسوں سے کولر تیار کرنے والے محمد بلال کا کہنا تھا کہ دو ماہ کے مختصر سیزن میں ان کے تقریبا ایک ہزار کولر فروخت ہوجاتے ہیں۔ ان کو شکایت تھی کہ گرمی میں جب کام کرنے کو جی نہیں چاہتا تو وہی ان کے کام کا وقت ہوتا ہے۔ روم کولر پاکستان میں متعارف کیسے ہوئے تحقیق طلب سوال ہے لیکن انہوں نے اپنی افادیت کی وجہ سے اچھی خاصی مارکیٹ بنا لی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||