دو سالہ بچے پر زناکاری کا الزام | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بنگلہ دیش کے شمالی شہر بوگرا کی ایک عدالت نے دو سال کے اس بچے کو بری کر دیا ہے جس پر الزام لگایا گیا تھا کہ اس نے چوری اور زنا کاری کی ہے۔ شیر خوار جس پر یہ الزام لگا تھا عدالت میں اپنی ماں کی گود میں ضمانت کے لیے لایا گیا تھا۔ بچے کو جس کا نام سیف الاسلام ہے، چھ دوسرے افراد کے ساتھ چوری اور زناکاری کے الزام میں ملوث کیا گیا تھا۔ جس وقت مقدمہ کی سماعت شروع ہوئی تو مجیسٹریٹ نے الزامات پر حیرانی کا اظہار کیا اور بچے کو فوری طور پر رہا کرنے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے مقدمہ دائر کرنے والے کو بھی حکم دیا کہ وہ وضاحت کرے کہ اس نوعیت کے الزامات میں بچے کا نام کیوں لیا گیا۔ مجیسٹریٹ نے ایک مقامی سیاست دان یونس علی کو بھی یہ ہدایت دی ہے کہ وضاحت کریں کہ یہ واقعہ کیسے ہوا۔ یونس علی نے اس مقدمے کی ابتدائی تفتیش کی تھی۔ بنگلہ دیش کے اخبار ڈیلی سٹار کے مطابق بچے اور دیگر افراد پر یہ الزامات فروری کی نو تاریخ کو عائد کیے گئے تھے۔ مستغیث کا کہنا تھا کہ بچہ اور اس کے خاندان کے دیگر افراد نے اپنے ہمسایوں کے ساتھ مل کر سونے کے زیورات اور کپڑے چرائے تھے جن کی مالیت تین ہزار بنگلہ دیشی ٹکہ تھی جو سینتالیس امریکی ڈالر بنتے ہیں۔ اس نے یہ بھی الزام لگایا تھا کہ اس کے گھر سے تیرہ ہزار ٹکے بھی چوری کیے گئے تھے۔ بچے پر اس طرح کا الزام پہلی بار نہیں لگایا گیا۔ مارچ میں بنگلہ دیش کی عدالتِ عالیہ نے ایک مقدے کی سماعت روک دی تھی جس میں چار شیر خواروں پر کو جو ایک ہی خاندان سے تعلق رکھتے تھے، مجرمانہ نقصان اور لوٹ مار کا الزام عائد کیا گیاتھا۔ اس مقدمے میں چار پولیس والوں کو معطل کردیا گیا تھا کہ انہوں نے غفلت برتی تھی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||