بنگلہ دیش: خواتین تیراک قبول نہیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بنگلہ دیش میں اسلامی شدت پسند گروہوں کے احتجاج کے بعد خواتین کی تیراکی کے قومی مقابلے آخری لمحات میں منسوخ کر دیئے گئے۔ بنگلہ دیش کے وزیرِ کھیل کا کہنا تھا کہ ان کے پاس ان مقابلوں کو منسوخ کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا۔ انہوں نے بتایا کہ تیراکی کے مقابلوں کو منسوخ نہ کرنے کی صورت میں اسلامی شدت پسند گروہوں نے چاند پور ضلع میں کاروبارِ زندگی مفلوج کر دینے کی دھمکی دی تھی۔ اسلامی گروہوں کا کہنا تھا کہ مقابلے میں حصہ لینے کا فیصلہ کر کے خواتین نے بنگلہ دیش کے دس کروڑ مسلمانوں کے جذبات مجروح کیے ہیں۔ دریں اثناء مردوں کا تیراکی کا مقابلہ حسبِ معمول منعقد ہوا۔ اس سے پہلے جولائی میں شدت پسند اسلامی جماعتوں کے احتجاج پر خواتین کی کشتی کا مقابلہ بھی منسوخ کر دیا گیا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||