تنازعات کا حل بہتر تعلقات: مشرف | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا ہے کہ بھارت کے ساتھ سیاسی سطح پر تنازعات پر پیش رفت سے ہی دونوں ممالک کے درمیان معاشی اور تجارتی تعلقات بہتر ہوں گے۔ بدھ کو بھارت کے چیمبر آف کامرس کے عہدیداران سے راولپنڈی میں ایک ملاقات میں صدر نے کہا کہ دونوں ممالک سیاسی بصیرت اور خلوص سے تمام مسائل حل کر لیں تو دونوں ممالک کے درمیان تعلقات تیزی سے اچھے ہو سکتے ہیں۔ صدر جنرل مشرف نے کہا کہ ماضی میں دونوں ممالک کی طرف سے تنازعات کے حل کے لئے کی گی کوششیں اس لئے ناکام ہوئیں کہ دونوں ممالک کی طرف سے اصل مسائل کے حل کی طرف سے پردہ پوشی کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ اب ایسا نہیں ہو گا۔انہوں نے بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ کے بارے میں کہا کہ انہوں نے بھارتی وزیر اعظم کو تنازعات کے حل کے لئے پرخلوص پایا ہے۔ تاہم صدر کا کہنا تھا کہ وہ اس بات کی گارنٹی نہیں دے سکتے کہ مستقبل کے رہنما بھی اسی قسم کی ہم آہنگی کا مظاہرہ کریں گے۔ انہوں نے جنوبی ایشیائی ممالک کے درمیان آزادانہ تجارتی معاہدے کے بارے میں کہا کہ اس معاہدے سے خطے میں تجارتی روابط بڑھیں گے مگر ساتھ ہی صدر کا کہنا تھا کہ اس کے لئے پاکستان اور بھارت کے درمیان امن اس معاہدے کے حقیقی عمل کا ضامن ہو گا۔ بھارتی فیڈریشن آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر اونکار کنور نے اس ملاقات کے بارے میں صحافیوں کو بتاتے ہوئے کہا کہ انہوں نے صدر جنرل مشرف سے درخواست کی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر اور دونوں ممالک میں ریل، بحری اور فضائی تجارتی روابط کے ذرائع اور تاجروں کے لئے ویزا کی پابندیوں کو نرم کرنے جیسے معاملات زیر بحث آئے۔ تاہم انہوں نے اس بارے میں صدر مشرف کا رد عمل بتانے سے انکار کیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان اشیاء کی درآمد یا برآمد کے حوالے سے کوئی بات نہیں ہوئی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||