’ابھی امریکہ کے حوالے نہیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے وزیر اعظم شوکت عزیز نے کہا ہے کہ صوبہ سرحد سے گرفتار ہونے والے القاعدہ کے مبینہ رکن ابو خراج اللبی سے تفتیش ٹھیک چل رہی ہے۔ پاکستانی اور امریکی خفیہ اداروں کے مطابق لیبیا سے تعلق رکھنے والے ابو خراج کا شمار اسامہ بن لادن کے اہم ساتھیوں میں ہوتا ہے۔ پاکستان نے ابو خراج کے فوری طور پر امریکہ حوالگی کے امکان کومسترد کیا ہے اور اس نے اس بات سے بھی انکار کیا ہے کہ ابو خراج سے پوچھ گچھ میں امریکی ایجنٹ بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستانی وزارت داخلہ اور فوج نے اس بات کی تردید کی ہے کہ خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے صدر مشرف پر حملے کے ایک اور منصوبے کو ناکام بنا دیا ہے۔ امریکی خفیہ اداروں نے ابو خراج کو پاکستان ہی سے گرفتار ہونے والے مبینہ طور پر القاعدہ رکن خالد شیخ محمد کا جانشین قرار دیا ہے۔ بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق اس بات کی تصدیق کرنا مشکل ہے کہ ابو خراج القاعدہ میں تیسرے نمبر پر تھے۔ پاکستانی حکام نے کہا ہے کہ انہوں نے اللبی کی گرفتاری کے بعد بہت سے القاعدہ ارکان گرفتار کیے ہیں لیکن یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ان گرفتاریوں اور ابو خراج کی گرفتاری میں کوئی تعلق ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||