عمر قریشی انتقال کر گئے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مایہ ناز پاکستانی صحافی اور کرکٹ کمنٹریٹرعمر قریشی طویل علالت کے بعد کراچی میں انتقال کر گئے۔ ان کی عمر ستتر برس تھی۔ عمر قریشی نے پسماندگان میں ایک بیٹے جاوید قریشی کو سوگوار چھوڑا ہے۔ عمر قریشی کو سات مارچ کو دمہ کے حملے بعد اسپتال میں داخل کروایا گیا تھا۔ عمر قریشی نے پچاس برس تک متعدد اخبارات کے لیے لکھا۔ پاکستان کے انگریزی اخبار ڈان میں ان کے کالم باقاعدگی سے چھپتے تھے اور ملک کے خواندہ طبقے کی ایک بڑی تعداد ان کے کالموں کی قاری تھی۔عمر قریشی نے کرکٹ اور سیاست جیسے موضوعات پر متعدد کتب بھی تحریر کیں۔ پچاس اور ساٹھ کی دہائیوں میں عمر قریشی نے جمشید مارکر کے ساتھ مل کر کرکٹ کمنٹری کی اور ان دونوں صدا کاروں کی جوڑی بہت مقبول ہوئی۔ ستر کے عشرے میں عمر قریشی نے برطانیہ اور آسٹریلیا کے دوروں پر پاکستان کرکٹ ٹیم کے مینجر کے فرائض بھی سرانجام دیے۔ کرکٹ کے عالمی حلقوں میں انہیں اس کھیل پر اتھارٹی سمجھا جاتا تھا۔ عمر قریشی گزشتہ برس بین لاقوامی کرکٹ کونسل کی ٹیسٹ اور ون ڈے میچوں کے بہترین کھلاڑی کا انتخاب کرنے والے ججوں کے پینل میں بھی شامل تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||