منٹو کی قبرکہاں اور کس حال میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
37 برس قبل منٹو کی قبر کس طرح تلاش کی گئی، اسکا احوال آپ سن چکے ہیں۔ لیکں سن 2005 میں بھی اُس کی قبر کی تلاش ایک مسئلہ بن سکتی ہے، یہ کبھی سوچا نہ تھا۔واقعات آج بھی کچھ اُسی طرح کے تھے، سب سے پہلے ہم قبرستان کے دفتر گئے اور معروف قلم کار کی قبر کا پتہ دریافت کیا۔لیکن اُن کے فرشتوں کو بھی خبر نہیں تھی۔ کہنے لگے قبرستان کے سکیورٹی آفیسر اس وقت گشت پر گئے ہیں وہ کہیں نظر آ جائیں تو مطلوبہ قبر تک پہنچا دیں گے۔ سکیورٹی آفیسر کی نشانی یہ بتائی گئی کہ وہ ایک نیلے سکوٹر پر سوار ہیں۔ قبرستان میں جہاں کہیں نیلا سکوٹر نظر آیا ہم نے احتیاطاً چھان بین کر لی۔ آخر ہمیں گورکنوں کے جھونپڑوں کے باہروہ سکوٹر نظر آ گیا جسکی تلاش تھی۔ایک جھونپڑے کے اندر گئے تو دیکھا کہ سیکورٹی آفسر صاحب آگ کے الاؤ پر ایک دیگچی میں کچھ پتیاں اُبال رہے ہیں۔ غالباً کوئی سپیشل قسم کی چائے تھی اور لگتا تھاکہ اِس چائے کے کئی دور پہلے بھی چل چُکے ہیں . ہمارے پوچھنے پر انہوں نے بتایا کہ وہ منٹو نامی کسی شخص کی قبر سے واقف نہیں ہیں۔ البتہ غازی علم دین شہید کی قبر پاس ہی ہے اگر حاضری دینا چاہیں تو اپنا بندہ ساتھ بھیج دیں گے۔ ہم شکریہ ادا کر کے باہر آئے تو چند گورکنوں نے بخشیش کے لالچ میں ہمیں گھیر لیا اور پوچھا کہ کس قبر کی تلاش ہے۔ ہم نے بتایا تو ایک گورکن نے سگریٹ کا آخری کش لیکر کہا ’ اچھا وہ شاعر تھا ..... میرا مطلب ہے رائٹر ٹائپ‘ ہم نے فوراً اثبات میں سر ہلا دیا اور وہ بڑے اعتماد سے ہمیں قبرستان کے دوسرے سرے کی جانب لے گیا۔ وہاں پہنچے تو دیکھاکہ ساغر صدیقی کی قبر ہے۔ گورکن کا اصرار تھا کہ رائٹر ٹائپ لوگوں کے کئی کئی نام ہوتے ہیں اس لئے مطلوبہ قبر یقیناً یہی ہوگی۔ ہماری بحث سن کر قریبی ڈیرے سے ایک ملنگ برآمد ہوا اور ’مانگ بچہ کیا مانگتا ہے‘ کے انداز میں پوچھنے لگا کس کی قبر ڈھونڈتے ہو۔ ہم نے نام بتایا تو بولا کہ میں یہاں پچاس برس سے کام کر رہا ہوں۔ اس نام کا کوئی آدمی یہاں دفن نہیں ہے۔ پھر قریب آ کر رازدارانہ انداز میں بولا ’ دفنانے کےایک ماہ بعد تک اگر کوئی نہ آئے تو ہم کھود کھاد کر نیا مردہ دفن کر دیتے ہیں۔ ہزاروں قبریں اسطرح بے نام ہو چکی ہیں‘۔ ملنگ بابا سے بحث کرنا فضول تھا اس لئے ہم آگے چل دیئے۔ اب سورج ڈھل چکا تھااور عنقریب اندھیرا پھیلنے والا تھا۔ آخر میں نے 37 برس پرانی یاداشت کے زور پر ذہن میں ایک نقشہ بنایا اور جس راستے سے برسوں پہلے اس قبرستان میں داخل ہوا تھا وہیں سے دوبارہ داخل ہو کر سڑک کے ساتھ ساتھ بنی ہوئی قبروں کی پچاس فٹ کی پٹی کو غور سے دیکھنا شروع کیا۔ تلاش میں میرا ساتھ دینے والے رفیق کار کاشف کا خیال تھا کہ تلاش بے سود ہے لیکن مجھے گویا چھٹی حس کہہ رہی تھی کہ منٹو کی قبر یہیں کہیں آس پاس ہے۔ اور یہ احساس سچا ثابت ہوا کیونکہ تیس چالیس قبروں کے بعد اچانک منٹو کی قبر کا کتبہ نظر آ گیا۔ پہچاننے میں اس لیے دقت ہو رہی تھی سینتیس برس پہلے اس قبر کے آس پاس کافی کھلی جگہ تھی جہاں ہم دوستوں نے نیم دائرے میں کھڑے ہو کر فاتحہ پڑھی تھی۔ لیکن اب اس کے ارد گرد قبریں ہی قبریں تھیں اور کچھ پکی قبریں اتنے بڑے سائز کی تھیں کہ اُن میں گھِری منٹو کی قبر بالکل ننھی منی دکھائی دے رہی تھی۔ قبر کی حالت بہت خستہ تھی اور لگتا تھا قبر کی دیکھ ریکھ کرنے والا کوئی نہیں۔ تحقیق پر ایک گورکن نے بتایا کہ جنوری میں کچھ غیر ملکی اِس قبر کو دیکھنے آئے تھے۔ آگے پیچھے یہاں باقاعدگی سے کوئی نہیں آتا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||