BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 05 March, 2005, 11:15 GMT 16:15 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستان: WTO فیصلے کا خیرمقدم

News image
پاکستانی معیشت کا انحصار کپاس اور اس سے تیارکردہ مصنوعات پر ہے
امریکہ میں کپاس کے کاشتکاروں کو دی جانے والی ایکسپورٹ سبسڈیز یعنی برآمدی اعانتوں کو عالمی تجارتی ادارہ (ڈبلیو ٹی او) کی طرف سے غیر قانونی قرار دیئے جانے کو پاکستان میں زرعی معیشت دان خوش آئند قرار دے رہے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈبلیو ٹی او کے حالیہ فیصلے پرامریکی ردعمل سامنے آنے کے بعد ہی کہا جا سکے گا کہ اس فیصلے کے ثمرات کپاس پیدا کرنے والے غریب ممالک کے کاشتکاروں تک کب پہنچیں گے تاہم یہ طے ہے کہ جب بھی امریکہ اس فیصلے پر عملدرآمد کرے گا بین الاقوامی منڈی میں کپاس کی قیمتیں بڑھیں گی جس سے پاکستان سمیت کپاس پیدا کرنے والے دوسرے ممالک کو فائدہ پہنچنے گا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا کے امیر ممالک نے آزادانہ تجارت کے نام پر ترقی پذیر اور غریب ممالک کو عالمی مالیاتی اداروں ( آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک) کے ذریعے دباؤ میں لا کر سٹرکچرل ایڈجسمنٹ پروگرامز SAP کے تحت زرعی شعبے کو دی جانے والی سبسڈیز کو ختم کرنے یا کم کرنے پر مجبور کردیا لیکن خود مختلف حیلے بہانوں سے اپنے کاشتکاروں کی مدد جاری رکھی جس سے تجارتی عدم توازن بڑھا ہے۔

News image
پاکستان کپاس کے کاشتکاروں کو کوئی زیادہ سبسڈیز فراہم نہیں کرتا
ایک اندازے کے مطابق امریکہ اپنے فارم بل کے ذریعے کپاس کے کاشتکاروں کو صرف ایکسپورٹ سبسڈی کی مد میں سالانہ تین بلین ڈالر فراہم کرتا ہے جبکہ زرعی شعبے کو دی جانے والی ڈومیسٹک سپورٹ سبسڈیز اس سے کہیں زیادہ ہیں ۔اسی طرح او ای سی ڈی (OECD) ممالک اپنے کاشتکاروں کو مجموعی طور پر ایک بلین ڈالر روزانہ سبسڈی دیتے ہیں۔

مغربی افریقہ کےکپاس پیدا کرنے والے ممالک نے سب سے پہلے ڈبلیو ٹی او کے پلیٹ فارم پر امریکی سبسڈیز کے خلاف آواز اٹھائی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی معیشت کا انحصار کپاس پر ہے لیکن امریکہ کی طرف سے اپنے کاشتکاروں کو دی جانے والی ایکسپورٹ سبسڈی کے باعث کپاس کی بین الاقوامی منڈی میں قیمتیں کم ہو جاتی ہیں جو اکثر اوقات افریقی کاشتکاروں کی پیداواری لاگت کو بھی پورا نہیں کرتیں۔

بعد میں برازیل نے افریقی ممالک کی طرف سے کیے گئے اعتراض کو اپنےحوالے سے بنیاد بناتے ہوۓ دو ہزار تین میں امریکہ کے خلاف ڈبلیو ٹی او میں درخواست دی جس کا فیصلہ دو ہزار چار میں برازیل کے حق میں ہوا۔ امریکہ نے اس فیصلے کے خلاف appellate body سے رجوع کیا لیکن یہاں بھی dispute settlement body کے فیصلے کو برقرار رکھا گیا ہے۔

پاکستان کپاس پیدا کرنے کے حوالے سے دنیا میں چوتھا بڑا ملک ہے۔ پاکستانی معیشت کا زیادہ تر انحصار کپاس اور اس سے تیارکردہ مصنوعات پر ہے۔ ملکی برآمدات سے ہونے والی آمدنی کے ساٹھ فیصد حصے کا تعلق بھی اسی شعبے سے ہے۔

پاکستان پہلے بھی زرعی شعبے خاص طور پر کپاس کے کاشتکاروں کو کوئی زیادہ سبسڈیز فراہم نہیں کرتا تھا لیکن SAP کے تحت نہ صرف یہ کم و بیش ختم کر دی گئیں بلکے غیر معمولی طور پر زرعی مداخل جیسے کھاد، بیج اور کیڑے مار ادویات وغیرہ پر جنرل سیلز ٹیکس بھی لاگو کر دیا گیا جس سے کاشتکاروں کی پیداواری لاگت میں اضافہ اور آمدنی میں کمی واقع ہوئی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد