پاکستان: WTO فیصلے کا خیرمقدم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ میں کپاس کے کاشتکاروں کو دی جانے والی ایکسپورٹ سبسڈیز یعنی برآمدی اعانتوں کو عالمی تجارتی ادارہ (ڈبلیو ٹی او) کی طرف سے غیر قانونی قرار دیئے جانے کو پاکستان میں زرعی معیشت دان خوش آئند قرار دے رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈبلیو ٹی او کے حالیہ فیصلے پرامریکی ردعمل سامنے آنے کے بعد ہی کہا جا سکے گا کہ اس فیصلے کے ثمرات کپاس پیدا کرنے والے غریب ممالک کے کاشتکاروں تک کب پہنچیں گے تاہم یہ طے ہے کہ جب بھی امریکہ اس فیصلے پر عملدرآمد کرے گا بین الاقوامی منڈی میں کپاس کی قیمتیں بڑھیں گی جس سے پاکستان سمیت کپاس پیدا کرنے والے دوسرے ممالک کو فائدہ پہنچنے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا کے امیر ممالک نے آزادانہ تجارت کے نام پر ترقی پذیر اور غریب ممالک کو عالمی مالیاتی اداروں ( آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک) کے ذریعے دباؤ میں لا کر سٹرکچرل ایڈجسمنٹ پروگرامز SAP کے تحت زرعی شعبے کو دی جانے والی سبسڈیز کو ختم کرنے یا کم کرنے پر مجبور کردیا لیکن خود مختلف حیلے بہانوں سے اپنے کاشتکاروں کی مدد جاری رکھی جس سے تجارتی عدم توازن بڑھا ہے۔
مغربی افریقہ کےکپاس پیدا کرنے والے ممالک نے سب سے پہلے ڈبلیو ٹی او کے پلیٹ فارم پر امریکی سبسڈیز کے خلاف آواز اٹھائی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی معیشت کا انحصار کپاس پر ہے لیکن امریکہ کی طرف سے اپنے کاشتکاروں کو دی جانے والی ایکسپورٹ سبسڈی کے باعث کپاس کی بین الاقوامی منڈی میں قیمتیں کم ہو جاتی ہیں جو اکثر اوقات افریقی کاشتکاروں کی پیداواری لاگت کو بھی پورا نہیں کرتیں۔ بعد میں برازیل نے افریقی ممالک کی طرف سے کیے گئے اعتراض کو اپنےحوالے سے بنیاد بناتے ہوۓ دو ہزار تین میں امریکہ کے خلاف ڈبلیو ٹی او میں درخواست دی جس کا فیصلہ دو ہزار چار میں برازیل کے حق میں ہوا۔ امریکہ نے اس فیصلے کے خلاف appellate body سے رجوع کیا لیکن یہاں بھی dispute settlement body کے فیصلے کو برقرار رکھا گیا ہے۔ پاکستان کپاس پیدا کرنے کے حوالے سے دنیا میں چوتھا بڑا ملک ہے۔ پاکستانی معیشت کا زیادہ تر انحصار کپاس اور اس سے تیارکردہ مصنوعات پر ہے۔ ملکی برآمدات سے ہونے والی آمدنی کے ساٹھ فیصد حصے کا تعلق بھی اسی شعبے سے ہے۔ پاکستان پہلے بھی زرعی شعبے خاص طور پر کپاس کے کاشتکاروں کو کوئی زیادہ سبسڈیز فراہم نہیں کرتا تھا لیکن SAP کے تحت نہ صرف یہ کم و بیش ختم کر دی گئیں بلکے غیر معمولی طور پر زرعی مداخل جیسے کھاد، بیج اور کیڑے مار ادویات وغیرہ پر جنرل سیلز ٹیکس بھی لاگو کر دیا گیا جس سے کاشتکاروں کی پیداواری لاگت میں اضافہ اور آمدنی میں کمی واقع ہوئی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||