فون کے لیے نادرا کی تصدیق لازمی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وفاقی وزیرداخلہ آفتاب شیرپاؤ نے کہا کہ ملک میں نئے ٹیلی فون کنیکشن نیا کمپیوٹر شناختی کارڈ دکھانے اور نادرا کی تصدیق کے بعد دیئے جائیں گے تاکہ کوئی ملک دشمن فرضی نام پر نیا کنیکشن نہ لے سکے۔ آج لاہور میں وفاقی وزیر امن و امان پر بین الصوبائی رابطہ کمیٹی کے اجلاس کے بعد پریس کو اس کے بارے میں بریفنگ دے رہے تھے۔اس اجلاس میں چاروں صوبوں، پاکستان کے زیرانتظام کشمیر اور شمالی علاقہ جات اور مختلف وفاقی ایجنسیوں کے اعلی حکام نے شرکت کی۔ وزیرداخلہ نے کہا کہ اجلاس میں ملک میں نئے موبائل ٹیلی فون کنیکشن دیئے جانے پر صوبوں نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ نئے کنیکشن کسی وفاقی ادارے کی تفتیش کے بعد دیئے جائیں جس کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ دکھانے اور نادارا کی تصدیق کے بعد فون کنیکشن دیا جائے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ غیر ملکیوں کی حفاظت کے لیے فارنر سکیورٹی سیل بنائے جائیں گے اور آئندہ ایسے ترقیاتی منصوبوں میں جن میں غیرملکی کام کررہے ہیں ہوں غیرملکی افراد کی حفاظت کے لیے سکیورٹی اخراجات پی سی ون میں شامل کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ فارن سکیورٹی سیل چاروں صوبوں میں قائم کیے جائیں گے اور جہاں غیر ملکی کام کررہے ہوں وہاں پر نیشنل کرائسز مینجمینٹ سیل کے سربراہ خود دورہ کریں گے۔ وفاقی وزیر داخلہ نے یہ بھی اعلان کیا کہ نیشنل کرائسز مینجمینٹ سیل، جو مبینہ دہشت گردوں کی گرفتاری سے متعلق ہے، کے صوبائی دفاتر چاروں صوبے میں کھولے جارہے ہیں۔ لاہورمیں اس کا افتتاح آج کردیا گیا جبکہ باقی صوبوں میں یہ دفاتر تین ماہ کے اندر کھول دیے جائیں گے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ جن صوبوں میں انسداد دہشت گردی کی عدالتوں کی تعداد کم ہے وہاں پر ان کی تعداد میں اضافہ کیا جائے گا اور ہائی کورٹوں میں انسداد دہشت گردی کی عدالتوں کے فیصلوں کے بارے میں اپیلیں سننے کے لیے خصوصی بینچ بنائے جائیں گے۔ وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ملک میں غیرملکیوں سے متعلق فارن ایکٹ کے تحت اعداد وشمار جمع کیے جارہے ہیں اور ملک میں قید غیرملکیوں کی جلد رہائی کے لیے سفارت خانوں سے رابطے کیے جائیں گے۔ وفاقی وزیر داخلہ نے بتایا کہ صوبوں نے مدرسوں میں زیرتعلیم غیر ملکیوں اور مدارس ان کے چندہ اکٹھا کرنے کے بارے میں تفصیلی رپورٹ پیش کی اور اس بارے میں جلد لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔ آفتاب شیرپاؤ نے کہا کہ بلوچستان کا جلد دورہ کریں گے اور مفاہمت کی فضا پیدا کرنے کے لیے سیاسی تنظیموں اور دوسرے لوگوں سے بات چیت کریں گے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ وانا میں غیر ملکی موجود ہیں جو دہشت گردی کی کاروائیوں میں ملوث ہیں اور جب تک غیر ملکی وہاں پر ہیں وانا میں آپریشن جاری رہے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیرستان کے محسود اور وزیر قبائل نے حکومت سے تعاون کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ آفتاب شیرپاؤ نے کہا کہ پاکستان کو دہشت گردی کا سامنا ہے اور دہشت گردی کے خاتمہ کے اس اجلاس میں تمام ایجنسیوں اور اداروں کو اس سلسلہ میں کوششیں تیز کرنے کے لیے واضح ہدایات جاری کردی گئی ہیں اور آپس میں معلومات کے تبادلے کو بہتر بنانے پر زور دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ یہ ایجنیساں اور ادارے آپس میں رابطے بڑھائیں گے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قیدیوں سے متعلق اعداد وشمار آن لائن کیے جائیں گے اور خطرناک قیدیوں کے لیے علیحدہ سیل بنائے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ صوبوں کے درمیان جیلوں کو آپس میں مربوط کیاجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ صوبوں میں سی آئی ڈی اور اسپیشل برانچ کو بہتر کے لیے وفاقی حکومت مکمل تعاون کرے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایف آئی اے سائبر کرئم کی روک تھام کے لیے اور انسانی اسمگلنگ کو روکنے کے لیے اقدامات کرے گی۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ آئیندہ امن و امان کی بین الصوبائی کمیٹی کا اجلاس زیادہ باقاعدی سے ہوگا اور امکان ہے کہ اگلا اجلاس کراچی میں ہوگا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||