کراچی: مفتی جمیل کی تدفین، کشیدگی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عالمی مجلس ختم نبوت کے ناظم مفتی محمد جمیل کی تدفین اتوار کو کراچی میں ہونے والی ہے اور کراچی میں کے کئی مقامات سے فایرنگ اور کشیدگی کی اطلاعات ہیں۔ مفتی جمیل کی نمازِ جنازہ جامع العلوم بنوری ٹاؤن میں ہو گی جس کے بعد انہیں ان کے پیرو مرشد علامہ شامزئی کے پہلو میں دفن کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ ان کے ساتھ ہلاک کیے جانے مجلسِ ختم نبوت کے صوبائی صدر نذیر احمد تونسوی کی میت ان کے آبائی گاؤں تونسہ روانہ کی جا رہی ہے۔ ان دونوں کو سنیچر کو کراچی کے علاقے پٹیل پاڑا میں نامعلوم افراد کی فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا۔ دریں اثنا کراچی پولیس نے مفتی جمیل اور ان کے ساتھی مولانا نذیر احمد کی ہلاکت کے بعد ایک خصوصی تفتیشی ٹیم تشکیل دی ہے۔ اس علاوہ شہر میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے شہری کی سیکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔ فائرنگ کی اطلاعات کراچی کے علاقے جمشید کوارٹر، گلبہار، انچولی اور گلشنِ اقبال سے ملی ہیں جب کے ایک بس جلائے جانے کی اطلاعات ہیں۔ مفتی جمیل کے قریبی ساتھی اور جمیعت علمائے اسلام کے صوبائی جنرل سیکریٹری جنرل محمد عثمان نے بتایا ہے کہ مفتی جمیل نذیر احمد کے ساتھ گاڑی میں پٹیل پاڑا کی مسجد میں نماز پڑھانے جا رہے تھے کہ موٹر سائیکل پر سوار نامعلوم افراد نے ان کی گاڑی پر فائرنگ کر دی جس سے وہ اور نذیر احمد شدید زخمی ہو گئے۔ انہیں لیاقت نیشنل ہسپتال لے جایا گیا مگر وہ طبی امداد ملنے سے پہلے ہی چل بسے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||