وادیِ کہون کے فطری حسن کو خطرہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ضلع چکوال میں پر فضا پہاڑی مقام کلر کہار کے قریب وادی کہون جسے اس کی سرسبز سرزمین، چشموں اور خوشگوار آب و ہوا کی وجہ سے مِنی کشمیر بھی کہا جاتا ہے کے دس بارہ کلومیٹر کے علاقہ میں ایک کاغذ کی مل اور پانچ سیمنٹ فیکٹریاں لگائی جارہی ہیں جس پر مقامی لوگ شدید احتجاج کررہے ہیں۔ اس علاقہ میں صدیوں پرانے کٹاس مندر ہیں جو ہندوتہذیب میں اہم مقام رکھتے ہیں اور وہ بدھ عبادت گاہ ہے جہاں اشوک بادشاہ نے عبادت کی تھی اور وہ پہاڑیاں ہیں جہاں سے دنیا کے قدیم فوسل ملے تھے۔ اب ان پہاڑیوں کو پیس کر سیمنٹ بنانے کی تیاریاں ہورہی ہیں۔ کلر کہار سے چواسیدن شاہ جاتے ہوئے بارہ کلومیٹر کے فاصلہ پر سڑک پر خیرپور گاؤں واقع ہے جہاں گزشتہ چار ماہ سے ایک سیمینٹ کی فیکٹری لگائی جارہی ہے اور مقامی افراد کی شدید مخالفت کی وجہ سے اس کی حفاظت کے لیے پولیس کی بھاری نفری اور ایلیٹ فورس کے دستے پہرہ دیتے نطر آتے ہیں۔ اس سے تین چار کلومیٹر سیمنٹ کا ایک اور کارخانہ لگانے کی تیاریاں جاری ہیں اور بڑے رقبہ پر خاردار تار لگی ہوئی ہے۔ یہاں ایک نجی گروپ نے تین دیہات میں تین سو کنال زمین حکومت پنجاب کے حصول اراضی کے نوٹیفکیشن کے تحت حاصل کی ہے۔
کہون وادی کے علاقہ میں دو تین کلومیٹر کے فاصلہ پر جو پہاڑیاں ہیں ان میں ایسی مٹی اور پتھر (چونے کی مٹی اور جپسم) پائے جاتے ہیں جو سیمنٹ بنانے کے کام آتے ہیں۔ گزشتہ سال ایک بڑے صنعتی اور کاروباری گروپ نے یہاں لوگوں سے سیمینٹ فیکٹری لگانے کے لیے زمین خریدنا چاہی اور لوگوں کی مزاحمت کے باوجود پنجاب حکومت سے لینڈ ایکویزیشن ایکٹ کے تحت کہون وادی کے تین گاؤں ملوٹھ، خیرپور اور دلیل پور میں تقریبا سترہ سو کنال اراضی حاصل کرلی۔ بہت سے مقامی افراد کا الزام ہے کہ اس زمین کو حاصل کرنے کے لیے غیرقانونی طریقے استعمال کیےگئے جن کے حوالے سے عدالتوں میں مقدمات زیرسماعت ہیں۔ مقامی افراد نے سیمینٹ فیکٹری لگائے جانے کے خلاف پنجاب کے محکمہ ماحولیات (ای پی ڈی) سے شکایت کی کہ یہ فیکٹری اس کی اجازت (این او سی) کے بغیر لگ رہی ہے اور اس کا ماحولیاتی اثر جانچنے کے لیے کیا جانے والا سروے بھی نہیں کیاگیا جو کہ کسی بھی کارخانہ کے لگنے کی لازمی قانونی شرط ہے۔
صوبائی وزیرماحولیات نے راولپنڈی میں ضلعی افسر برائے ماحولیات اس سیمینٹ کارخانہ کی تعمیر سے کہون وادی کے ماحول پر ہونے والے اثر کی رپورٹ بنانے کو کہا جس نے رپورٹ دی کہ اس سے ماحول پر بُرا اثر ہوگا۔ تاہم محکمہ ماحولیات نے سیمینٹ کارخانہ کی تعمیر روکنے کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھایا جس پر پنجاب کے سابق گورنر جنرل (ریٹائرڈ) محمدصفدر جو اسی علاقہ کے کے رہنے والے ہیں، نے ایک اخبار میں ’الوداع وادی کہون‘ کے عنوان سے ایک مضمون لکھا اور صدر جنرل پرویزمشرف سے ملاقات کرکے انھیں سیمنٹ کے کارخانے لگنے سے اس حسین وادی پر پڑنے والے بُرے اثرات سے آگاہ کیا۔ جنرل(ریٹائرڈ) پیرداد خان نے بھی اس علاقہ میں سیمنٹ کا کارخانے لگائے جانے کے خلاف آواز اٹھائی اور صدر مشرف کو خطوط لکھے۔ صدر مشرف کے کہنے پر وزارت ماحولیات نے پنجاب کے محکمہ ماحولیات سے رپورٹ مانگی۔ اس بار گجرات کے ضلعی ماحولیات افسر نے رپورٹ بنائی اور انھوں نے سیمینٹ فیکٹریوں سے اس علاقہ کو ہونے والے خطرات کا ذکر کیا۔ تاہم پنجاب کے سیکرٹری صنعت نے اس رپورٹ کو نظرانداز کرتے ہوۓ خود سے ایک رپورٹ صدر مشرف کو بھیجی جس میں فیکٹریاں لگانے کا دفاع کیا گیا اور کہا گیا کہ اس علاقہ کی زمین بنجر اور ناقابل کاشت ہے۔ دوسری طرف ایک ہفتہ پہلے لاہور میں اوزون کےموضوع پر ہونے والے ایک سیمینارمیں صوبائی وزیر ماحولیات نے وادی کہوں میں سیمینٹ فیکٹریاں لگائے جانے کا معاملہ اٹھنے پر کہا کہ ان کارخانوں سے ماحول کو نقصان پہنچے گا۔ مقامی افراد سیمنٹ کےکارخانے لگائے جانے پر مختلف اعتراضات کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وادی کہون ایک پر فضا مقام ہے اور یہاں کی زمین پوٹھوہار کی زمینوں میں سب سے زیادہ زرخیز سمجھی جاتی ہے جبکہ سرکاری رپورٹوں میں انھیں غلط بیانی کرتے ہوئے بنجر بتایا جارہا ہے۔ سیمنٹ کے جس کارخانے کی گزشتہ چار ماہ سے تعمیر ہورہی ہے وہ ملکانہ کے قدرتی چشموں سے پانی لے گا جہاں علاقہ کے چھ دیہات -- ملوٹ، وڑالہ، چھوٹی، ڈلوال، مگھال ، دلیل پور -- کو پینے کا پانی ملتا ہے۔ اس علاقے میں لوکاٹ کے باغات ہیں وہ بھی ان ہی چشمے سے سیراب ہوتے ہیں۔ اس سیمنٹ فیکٹری کو ایک گھنٹہ میں ایک سو سات کیوبک میٹر تک پانی درکار ہوگا جو ان چشموں سے بھی پورا نہیں ہوسکتا اور زیر زین پانی جس کی سطح اس علاقہ میں خاصی نیچی ہے اس کے استعمال سے اور بھی نیچی چلی جائےگی اور علاقہ کے لوگوں کے لیے پینے کے پانی کی دستیابی مشکل ہوجائے گی اور اس سے قدرت چشمے بھی خشک ہوسکتے ہیں۔ سیمنٹ کی فیکٹریوں میں جو بے تحاشا پانی استعمال ہوگا اس کے نکاس کا بھی کوئی باقاعدہ انتطام نہیں ہے اور اس پہاڑی علاقہ میں جو پانی چھوڑا جائے گا وہ ڈھلوان میں جس طرف جگہ ملی رخ کرلے گا جس سے اردگرد کے رہائشی علاقہ ، صدیوں پرانی چراگاہوں اور زرعی رقبہ کو نقصان ہوگا۔ سیمنٹ کی فیکٹریاں پہاڑیوں کو بم دھماکوں سے اڑائیں گے جس سے اردگرد کے رہایشی علاقوں کے لوگوں کو تکلیف کا سامنا کرنا پڑے گا اور پہاڑ کی مٹی اور پتھر فیکٹری تک لے جانے کے لیے بھاری ٹرانسپورٹ دن رات رہائشی علاقوں سے گزرا کرے گی۔ مقامی افراد کے کہنا ہے کہ یہ بات بھی غلط ہے کہ سیمنٹ کے کارخانے لگنے سے روز گار پیدا ہوگا کیونکہ تعمیر کے بعد جب ایک سیمنٹ فیکٹری چلے گی تو اس میں دو سو کے قریب مزدور کام کریں گے جبکہ اس کارخانہ کو لگانے کے لیے جن لوگوں کی زمین لینڈ ایکویزیشن ایکٹ کے تحت حکومتی نوٹیفکیشن کی مدد سے لی گئی ہے ان میں بے روزگار ہونے والوں کی تعداد ہزاروں میں ہے۔ دس سال پہلے یہاں رائل سیمینٹ فیکٹری کراچی نے بھی سیمینٹ کا کارخانہ لگانے کے لیے پانچ سو کنال زمین خریدی تھی لیکن جب لوگوں نے اس پر احتجاج کیا کہ اس فیکٹری کے لگنے سے ان کا رہائشی علاقہ خراب ہوگا اور ان کی زراعت متاثر ہوگی تو وہ ارادہ ترک کرکے واپس چلے گۓ۔ سڑک کے شمال میں کھوکھر بالا نامی گاؤں ہے جہاں کچھ عرصہ پہلے وفاقی وزیر تجارت ہمایوں اختر نے بھی سیمنٹ کا کارخانہ لگانے کے لیے زمین حکومت کے نوٹیفیکیشن کے ذریعے حاصل کی لیکن مقامی لوگوں کے احتجاج پر وہ بھی اراداہ ترک کرکے چلے گئے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ وادی کہون جو پاکستان کے چند خوبصورت مقامات سے ایک ہے کارخانوں کی نذر ہوجاتی ہے یا اس کے قدیم رہائشیوں کا کمزور سا احتجاج اسے بچانے میں کامیاب ہوتا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||