شہباز کےاہل خانہ لاہور پہنچ گۓ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سابق وزیراعلیٰ پنجاب اور پاکستان مسلم لیگ (نواز گروپ) کے صدر شہباز شریف کی بیوی اور دو بیٹیاں ہفتے کو سعودی عرب سے لاہور پہنچ گئیں۔ شہباز شریف کی اہلیہ نصرت شہباز اپنی دو نوجوان بیٹیوں رابعہ اور جویریہ کے ساتھ لاہور کے ہوائی اڈے پر تقریباً آٹھ بجے ایمریٹس ایئرلائن کی پرواز سے پہنچیں تو مسلم لیگ کے کارکنوں اور شہباز شریف کے بیٹے حمزہ شہباز اور نصرت شہباز کے بھائی میاں الیاس معراج نے ان کا استقبال کیا۔ وہ ڈیفنس میں شہباز شریف کے بیٹے حمزہ کے گھر چلیں گئیں۔ نصرت شہباز نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی بیٹیوں کی شادی کے لیے لاہور آئی ہیں۔ میاں شہباز شریف اور ان کے ایک بیٹے کے علاوہ ان کے اہل خانہ جن میں سابق سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کا خاندان شامل ہے گزشتہ چار سال سے جدہ میں مقیم ہیں۔ حکومت پاکستان کا کہنا ہے کہ یہ لوگ ایک معاہدہ کے تحت دس سال کے لیے سعودی عرب میں رہنے کے پابند ہیں۔ تاہم شریف خاندان ایسے کسی معاہدہ کے وجود سے انکار کرتا آیا ہے۔ شہباز شریف نے صدر جنرل پرویز مشرف سے درخواست کی تھی کہ ان کی اہلیہ اور بیٹیوں کو ملک واپس آنے کی اجازت دی جائے تاکہ ان کی بیٹیوں کی شادیاں کی جاسکیں اور یہ کہ وہ کسی سیاسی سرگرمی میں ملوث نہیں ہوں گی۔ صدر مشرف نے یہ درخواست قبول کرلی تھی۔ شہباز شریف کی اہلیہ اور ان کی بیٹیاں گزشتہ دو سال میں دو بار پاکستان آئیں لیکن مقررہ مدت پوری گزرنے کے بعد وہ خود سے واپس سعودی عرب نہیں گئیں تو حکومت کے حکم پر انھیں ملک چھوڑنا پڑا۔ گزشتہ سال وہ ملک بدری سے بچنے کے لیے روپوش ہوگئیں تھیں اور ان کے بھائی میاں الیاس معراج کو حراست میں لیے جانے کے بعد ان کے بارے میں معلوم ہواآ انہیں لاہور سے اسلام آباد ہوائی اڈے لے جا کر سعودی عرب کے لیے روانہ کردیا گیا۔ خود شہباز شریف اس سال کے شروع میں خصوصی اجازت لے کر سعودی عرب سے امریکہ گۓ تھے جہاں ان کا آپریشن ہوا اور وہ لندن آکر رہنے لگے اور وہاں سے دبئی کے راستے انھوں نے لاہو آنے کی کوشش کی تو انھیں وہاں ہوائی اڈے سے ہی حراست میں لے کر سعودی عرب بھجوادیاگیا۔ اس سے پہلے پاکستان سپریم کورٹ کے ایک بینچ نے، جس میں چیف جسٹس ناظم صدیقی شامل تھے ، ایک رٹ درخواست پر فیصلہ دیا تھا کہ شہباز شریف اس ملک کے شہری ہیں اور انھیں ملک واپس آنے سے نہیں روکا جاسکتا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||