واہگہ سے تجارت اور بینک کاؤنٹر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے سیکرٹری تجارت دیپک چٹر جی نے تجویز پیش کی ہے کہ دونوں ممالک میں تجارت کے فروغ کے لیے واہگہ سڑک کا راستہ کھول دیا جائے اور سرحد کے دونوں جانب بینکوں کے خصوصی کاؤنٹر قائم کیے جائیں۔ وہ منگل کو لاہور کے آواری ہوٹل میں ایک تقریب سے خطاب کررہے تھے اس تقریب کا اہتمام پاکستان کے ایوانہائے صنعت و تجارت کے وفاق نے کیا تھا۔اس موقع پر انہوں نے پاکستانی اور بھارتی تاجروں اور صنعت کاروں کے سوالوں کے جواب بھی دیئے۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح بھارت کی نیپال اور بنگلہ دیش سے بری تجارت ہوتی ہے اسی طرح پاکستان کے ساتھ بھی تجارت کے لیے واہگہ کے مقام پر سڑک کا راستہ کھولا جاسکتا ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ شپنگ کی آسان نقل و حمل کے لیے دونوں ممالک کے درمیان خصوصی معاہدے کیے جائیں ۔ بھارتی سیکرٹری تجارت نے کہا کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان براہ راست تجارت کا حجم تو صرف پندرہ کروڑ ڈالر ہی ہے لیکن دوبئی یا سنگا پور سمیت دیگر ممالک کے ذریعے ہونے والی بالواسطہ تجارت کا حجم تقریبا دو ارب ڈالر سالانہ کے لگ بھگ ہے جو براہ راست تجارت کی صورت میں بڑھ کر چار ارب ڈالر سالانہ تک ہوسکتا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ پاکستان کو بنگلہ دیش اور نیپال سے تجارت کے لیے بھارت سے راہداری دینے کا معاملہ سارک کے پلیٹ فارم پر زیر بحث لایا جا سکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بھارت تجارتی، معاملات پر کبھی ڈیکٹیشن نہیں لیتا ’ہم اپنے تجارتی معاملات کو سیاسی مسائل سے الگ رکھتے ہیں‘۔ انہوں نے کہا کہ بھارت تو تجارت کے معاملہ میں پاکستان کو پسندیدہ ترین قوم کا درجہ دینے کے لیے تیار ہے لیکن اس سلسلہ جوابی طور پر پاکستان کی جانب سے مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے پاکستان کی اشیاء کی درآمد پر کوئی اضافی ڈیوٹی یا ٹیکس عائد نہیں کررکھا۔ اس موقع پر انہوں نے مقامی اخبار نویسوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ سرکریک یا وولر بیراج کے معاملات کچھ بھی ہوں تجارت ایک ایسا معاملہ ہے جس میں مخلتف شعبوں میں دونوں اقوام کو فائدہ ہی ہے۔ پاکستان کے ایوان ہائے صنعت و تجارت کے وفاق کے صدر ریاض احمد ٹا ٹا نے کہا کہ بالواسطہ تجارت کے موجودہ اعداد و شمار سے یہ واضح ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت کا ایک بڑا حجم موجود ہے لیکن اس تجارت کو ٹرانسپورٹیشن کے بہت زیادہ اضافی اخراجات برداشت کرنا پڑ رہے ہیں جو کم کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کے بنک بیرون ملک ادائیگیوں کے لیے مناسب سہولتیں فراہم کرتے ہیں لیکن بھارت سے جو رقم پاکستان آتی ہے اس میں کاروباری افراد کو خاصی دقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||