من موہن پرائمری سکول چکوال | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے وزیراعظم چودھری شجاعت حسین نے پنجاب کی صوبائی حکومت کو ہدایت کی ہے کہ ضلع چکوال میں واقع گاؤں ’گاہ، جہاں بھارتی وزیراعظم پیدا ہوئے تھے، اسے’ماڈل ولیج، بنایا جائے۔ جمعرات کے روز جاری کردہ ہدایات کے مطابق وزیر اعظم نے حکم دیا ہے کہ گاہ کے پرائمری سکول کا نام بھی تبدیل کرکے ’ من موہن سنگھ گورنمنٹ بوائز پرائمری اسکول، رکھا جائے۔ بھارت کے وزیراعظم من موہن سنگھ گاہ نامی گاؤں میں سن انیں سو بتیس میں پیدا ہوئے تھے اور ابتدائی تعلیم بھی اس گاؤں میں واقع پرائمری اسکول سے ہی حاصل کی تھی۔ پاکستان کے وزیراعظم چودھری شجاعت حسین کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ اقدام جذبہ خیر سگالی کے طور پر اٹھائے ہیں اور وہ امید کرتے ہیں کہ اس سے دونوں ممالک کے درمیاں جاری مذاکرات کا عمل مستحکم ہوگا۔ گاہ کے پرائمری سکول سے بھارتی وزیر اعظم نے چوتھی جماعت تک تعلیم تعلیم حاصل کرنے کے بعد قریبی قصبے چکوال میں داخلہ لے لیا۔ سرکاری کاغذوں میں تو گاہ کا پرائمری سکول لڑکوں کا ہے لیکن اس میں لڑکیاں بھی ساتھ ہی تعلیم حاصل کرتی ہیں۔ جب من موہن سنگھ نے وزیراعظم بنے تھے تو ان کے گاؤں کے لوگوں نے خواہش ظاہر کی تھی کہ اگر من موہن سنگھ اپنی جائے پیدائش کے گاؤں میں آئیں تو ان کے گاؤں کی تقدیر بدل جائے گی۔ اب تک بھارتی وزیراعظم تو گاؤں نہیں پہنچے لیکن ان کے پاکستانی ہم منصب نے خود ہی گاہ کو ماڈل ولیج بنانے اور اسکول کا نام من موہن سنگھ سے منسوب کرنے کی ہدایات جاری کردی ہیں۔ اسی سال مئی کے آخری عشرے کے شروع میں اس گاؤں کے مکینوں نے بتایا تھا کہ گاؤں میں بجلی اور پکی سڑک تو ہے لیکن ٹیلی فون اور پانی کی سہولتیں نہیں ہیں۔ واضح رہے کہ اٹھارہ اگست کو ہونے والے ضمنی انتخابات کی پولنگ میں رکن قومی اسمبلی منتخب ہونے کی صورت میں شوکت عزیز نئے وزیراعظم کے طور پر حلف اٹھائیں گے اور چودھری شجاعت حسین بطور وزیراعظم مستعفی ہوجائیں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||