BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 01 August, 2004, 17:01 GMT 22:01 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بچی فروش والدین اور خریدار گرفتار

ماں اور بچی
بچی نے والدین کی شناحت کی
چھ سالہ بچی شہناز عرف شانو کے والدین کو اس کی خریدار عورت شمع سمیت نابالغ بچی فروخت کرنے کے الزام میں گرفتار کرکے جیل بھیج دیا گیا ہے۔

پولیس نے گذشتہ روز حیدرآباد کے قریب ہالہ شہر کے بازار حسن کے طور پر پہچانے جانے والے علاقے سے شمع نامی ایک عورت کے قبضے سے معصوم بچی شہناز عرف شانی کو بازیاب کرایا تھا۔ اس عورت نے بتایا کہ اس نے بچی کو دادو ضلع کے شہر بھان سید آباد سے اس کے باپ رفیق نامی ایک شخص سے خریدا ہے۔

بچے کے والدین رفیق اور زینت نے ہالہ پولیس کے سامنے بچی کو عورت شمع کے ہاتھ بیچنے کا اعتراف کیا۔ بچی کے باپ کا کہنا تھا کہ اس سے قبل وہ اپنی شادی کے لیے صائمہ نامی بیٹی کو بیچ چکا ہے۔ اور شانی کو اس نے قرضہ اتارنے کے لیے بیچا ہے۔

بعد میں پولیس نے شمع کو جسم فروشی کے لیے نابالغ بچوں کو خریدنے کے الزام میں مقدمہ درج کرکے گرفتار کرلیا۔

ہالہ پولیس نے شہناز کو لاوارث قرار د ے کر عدالت میں پیش کیا اورعدالت کو بتایا کہ ایک طوائف کے ہاں سے اس بچی کو بازیاب کیا گیا ہے۔ جب کہ بچی کے ماں باپ ہونے دعویدار بھی مشکوک ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ دونوں فریق جسم فروشی کے دھندھے میں ملوث ہیں لہذا بچی کے مستقبل کو خطرہ ہے۔

تفتیش کے دوران پولیس نے بچی کی ماں اور باپ ہونے کے دعویداروں زینت اور رفیق کو بھی شامل تفتیش کر کے گرفتار کرلیا۔ اور انہیں ہالہ کی ایک مقامی عدالت میں پیش کیا۔

والد
بچی کے والد جنہوں نے بچی کو بیچنے کا اعتراف کیا ہے

عدالت نے تینوں ملزمان شمع، زینت اور رفیق کو چودہ دن کے ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے۔ تاہم بچی کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں دیا اور کہا کہ اس صورتحال میں بچی لاوارث ہے۔ جس کے فیصلے کا اختیار سیشن کورٹ کو ہے۔

ہالہ پولیس کے مطابق شہناز کو اس کی ماں زینت کے ساتھ عورتوں کی جیل حیدرآباد بھیجا گیا تھا لیکن جیل حکام نے اسے لینے سے انکار کردیا جس کے بعد بچی ہالہ پولیس تھانے پر ہی ہے۔

اب پیر کے روز اسے سیشن کورٹ میں پیش کیا جائے گا اور جو بھی فیصلہ کرے گی اس پر عمل درآمد کیا جائےگا۔ پولیس کا خیال ہے کہ بچی کو دارالامان یا پھر ایدھی ہوم بھیجا جائےگا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد