وکلاء کی ہڑتال، جزوی کامیابی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں وکلاء کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے ملک بھر میں ایک روزہ علامتی ہڑتال کی جو اپیل کی تھی اس پر جزوی طور پر عمل درآمد ہوا ہے۔ ہڑتال کے نتیجے میں پنجاب کے کئی شہروں اور کراچی کی ضلعی عدالتوں میں کام بند رہا۔ وکلاء پاکستان کے وزیراعظم چودھری شجاعت حسین کے آبائی شہر گجرات میں اس پولیس افسر کو ہٹانے کا مطالبہ کررہے ہیں جس پر وکیلوں پر تشدد کرنے کا الزام ہے۔ پولیس افسر کو ہٹانے کے مطالبے پر زور دینے کیلئے صبح ساڑھے د س بجے سے عدالتی بائیکاٹ کی اپیل کی گئی تھی جس پر جزوی طور پر عمل درآمد ہوا ہے۔ ہڑتال کا فیصلہ اب سے دس روز پہلے لاہور میں وکلاء کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے اجلاس میں ہوا جس کی توثیق بعد ازاں پاکستان بار کونسل نے بھی کردی۔ صوبۂ پنجاب میں ہڑتال کی اپیل کا زیادہ اثر جنوبی اضلاع ملتان، بہاولپور، ڈیرہ غازی خان، مظفرگڑھ اور رحیم یار خان کی ضلعی عدالتوں میں دیکھنے میں آیا۔ اس کے علاوہ وسطی اضلاع میں فیصل آباد اور گجرانوالہ سمیت کئی مقام پر عدالتوں کا بائیکاٹ رہا۔ لاہور میں البتہ ہڑتال کی اپیل جزوی طور پر کامیاب ہوئی۔ صوبۂ سندھ کے دارالحکومت کراچی سے نامہ نگار ادریس بختیار کی اطلاع کے مطابق ضلعی عدالتوں میں صبح کے گیارہ بجے کے بعد ہڑتال ہوئی جبکہ سندھ ہائی کورٹ میں حالات معمول کے مطابق رہے۔ وکلاء کی تنظیمیں پنجاب کے شہر گجرات میں ضلعی پولیس سربراہ کو ہٹانے کا مطالبہ کررہی ہیں جن پر پچھلے مہینے وکلاء پر تشدد کے ایک واقعہ میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔ پاکستان میں وکلاء اکتوبر انیس سو ننانوے میں فوج کے برسراقتدار آنے کے بعد کئی ایسے اقدامات کی مخالفت کرتے رہے ہیں جو ان کی دانست میں آئین کی رو کے منافی تھے۔ وکیلوں نے اٹھارہ اگست کو نامزد وزیراعظم شوکت عزیز کے قومی اسمبلی کی دو نشستوں کے لئے ضمنی انتخابات کے موقع پر بھی یومِ سیاہ منانے کا اعلان کررکھا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||