کراچی: ڈاکٹروں کا احتجاج | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
منگل کو ڈاکٹرز ایکشن کمیٹی کی جانب سے کراچی پریس کلب کے باہر ایک مظاہرہ کیا گیا جس میں پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن اور پاکستان اسلاِمک میڈیکل ایسوسی ایشن سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹروں کے علاوہ پاکستان مسلم لیگ ( نواز گروپ ) کے رہنما اور صوبہ سندھ کے سابق گورنر ممنون حسین نے بھی شرکت کی۔ اس موقع پر دونوں ڈاکٹروں کے اہل خانہ بھی موجود تھے۔ مظاہرین نے’اکمل اور ارشد کو رہا کرو‘ اور ’ڈاکٹروں پر ظلم بند کرو‘ اور ’شرم کرو حیا کرو‘ کے نعرے لگائے۔ اس موقع پر پی ایم اے کے رہنما ڈاکٹر شیر شاہ نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کا صرف ایک ہی مطالبہ ہے کہ اس ملک میں رہنے والے ہر شخص کے کچھ بنیادی حقوق ہیں اور یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ ان حقوق کی پاسداری کرے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں رہنے والے ہر شخص کا یہ بنیادی حق ہے کہ اسے عزت کے ساتھ زندہ رہنے دیا جائے۔ ڈاکٹر شیر شاہ نے مزید کہا کہ پی ایم اے نے اس حوالے سے ایک خط صدر پرویز مشرف کو بھی لکھا ہے اور ان سے مطالبہ کیا ہے کہ دونوں ڈاکٹروں کے خلاف قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے کارروائی کی جائے۔ اس موقع پر پی آئی ایم اے کے رہمنا ڈاکٹر مصباح العزیز نے بھی خطاب کیا۔ ڈاکٹر اکمل وحید اور ڈاکٹر ارشد وحید سترہ جون کی شب کو لاپتہ ہو گئے تھے۔ پولیس نے دو جولائی کو ان کی گرفتاری کی تصدیق کی اور تین جولائی کو انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا۔ عدالت کی اگلی سماعت چھبیس جولائی کو ہوگی۔ دونوں ڈاکٹروں پر الزام ہے کہ انہوں نے القاعدہ سے تعلق رکھنے والے لوگوں کا طبی علاج کیا اور اس بات کو حکام سے چھپایا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||