بن یامین قتل کے دو ملزم گرفتار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مسلم لیگ پنجاب کے رہنما اور سابق صوبائی وزیر پیر بنیامین رضوی کے قتل کے الزام میں لاہور پولیس منڈی بہاؤالدین سے دو افراد کو گرفتار کرکے لاہور لے آئی ہے۔ لاہور پولیس کا کہنا ہے کہ ان دونوں ملزموں سہیل عمران اور اسد عمران کا تعلق ایک کالعدم مذہبی تنظیم سے ہے اور وہ ان سے ابھی تفتیش کررہی ہے۔ پیر بنیامین رضوی کو چھبیس جون کو لاہور میں پنجاب یونیورسٹی کے نیو کیمپس کے قریب دو نامعلوم افراد نے گولیاں مار کر ان کے ڈرائور اور گن مین سمیت قتل کردیا تھا۔ پیر بنیامین کے اہل خانہ نے الزام لگایا تھا کہ ان کا قتل سیاسی وجوہ کی بنا پر کیاگیا اور پولیس نے ان کے بھائی کی درخواست کے مطابق ایف ائی آر درج کرنے کے بجائے خود مدعی بن کر مرضی کی ایف آئی آر درج کرلی۔ مسلم لیگ(ن) کے رہنماؤں نے الزام لگایا تھا کہ پیر بنیامین کو حکومت کی طرف سے دھمکیاں مل رہی تھیں۔ دوسری طرف لاہور پولیس کے ایس ایس پی تفتیش چودھری شفقات نے ایک پریس کانفرنس میں الزام لگایا تھا کہ پیر بنیامن رضوی کو ان کے مخالف شعیہ تنظیم نے قتل کیا کیونکہ وہ پھالیہ میں عاشورہ محرم کے جلوس نکالنے کے مخالف تھے۔ پولیس اہلکارنے دعویٰ کیا تھا کہ وہ بنیامین کے قتل کی منصوبہ بندی کرنے والوں کو جان چکے ہیں جنہوں نے ان کے قتل کا حلف اٹھایا تھا اور جلد انہیں گرفتار کرلیں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||