BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 27 June, 2004, 12:06 GMT 17:06 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نماز جنازہ: لاٹھی چارج، گرفتاریاں

بن یامین رضوی کو پھالیہ میں سپردِ خاک کر دیا گیا
بن یامین رضوی کو پھالیہ میں سپردِ خاک کر دیا گیا
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے نائب صدر پیر بن یامین رضوی کو اتوار کو ان کے آبائی شہر پھالیہ میں ہزاروں سوگواروں کی موجودگی میں سپردِ خاک کر دیا گیا ہے۔

اتوار کی صبح پنجاب پولیس نے پیر بن یامین رضوی کی میت کو لاہور سے زبردستی پھالیہ بھجوا دیا اور ان کی نماز جنازہ میں آنے والے افراد پر ہلکا لاٹھی
چارج کیا اور کچھ لوگوں کو عارضی طور پر حراست میں بھی لے لیا۔

اس موقع پر مسلم لیگ کے کارکنوں نے مسجد شہدا میں دو بار غائبانہ نماز جنازہ ادا کی۔

پھالیہ میں پیر یعقوب شاہ سٹڈیم میں پیر بن یامین رضوی کی نماز جنازہ ادا ہوئی جس میں بھاری تعداد میں لوگوں نے شرکت کی جس کے بعد انہیں ان کے والد پیر یعقوب کے مزار کے برابر سپرد خاک کر دیا گیا۔

پیر بن یامین رضوی کو ان کے ڈرائیور اور گن مین کے ہمراہ سنیچر کو قتل کر دیا گیا تھا ان کے ورثا اور مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں نے اعلان کیا تھا کہ ان کی نماز جنازہ لاہور کے ریگل چوک میں مسجد شہداکے سامنے ادا کی جاۓ گی۔

لیکن پولیس نے اچانک رات کے آخری پہر پیر بن یامین رضوی کی میت ان کے آبائی شہر پھالیہ روانہ کردی۔

ایک پولیس اہلکار نے بتایا کہ ان کی میت کی ایمبولینس کے ساتھ ایلیٹ فورس کی تین گاڑیاں تھیں اور ایک ڈی ایس پی کی سربراہی میں تینتیس اہلکار تھے۔

کیپٹل سٹی پولیس افیسر کا کہنا ہے کہ چند لوگ ان کے قتل کو سیاسی رنگ دینا چاہتے تھے اس لیے ان کی میت ان کے ورثا کے ہمراہ ان کے آبائی گاؤں پھالیہ بھجوادی گئی ہے۔

ادھر اعلان کے مطابق صبح مسلم لیگ کے کارکن اور ان کے دیگر عزیز اقارب مسجد شہدا کے سامنے پہنچنا شروع ہوۓ تو پولیس نے انہیں گرفتار کرنا شروع کر دیا۔ اس موقع پر ہلکا لاٹھی چارج بھی ہوا۔

ایس پی کینٹ ڈاکٹر عثمان کے مطابق گرفتار کیے جانے والوں کی تعداد بیس تھی لیکن مسلم لیگ (ن) پنجاب کے میڈیا سیکرٹری ناصر خان کے مطابق ان کی تعداد ڈیڑھ سو تھی ۔ گرفتار ہونے والوں میں مسلم لیگ (ن) کے ایک ایم این اے، چند ایم پی اے و دیگر مسلم لیگی عہدیدار بھی شامل ہیں۔

نماز جنازہ کے بعد مسلم لیگ پنجاب کے جنرل سیکرٹری خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ ’پیر بن یامین کا سیاسی قتل ہوا ہے اور اس کی ذمہ داری حکومت پنجاب پر عائد ہوتی ہے۔‘

قبل ازیں پولیس نے مقدمہ کے اندارج کے لیے مقتول پیر بن یامین رضوی کے بھائی پیر طارق یعقوب رضوی کی تحریری درخواست وصول کرنے سے انکار کر دیا تھا اور پولیس نے تھانہ گارڈن ٹاؤن کے ایس ایچ او کے استغاثہ پر نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا تھا۔

مقتول کے بھائی نے اپنی درخواست میں کہا تھا ’انہیں سیاسی منظر نامہ سے ہٹانے کے لیے ایک سوچے سمجھے منصوبہ کے تحت قتل کیا گیا ہے‘۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد