لاہور میں ایک اور انتخابی معرکہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور میں اپنی سیاسی حمایت کے مظاہرہ کے طور پر حکومتی جماعت اور حزب مخالف کے درمیان تین جولائی کو ایک اور معرکہ ہورہا ہے۔ ہفتہ کے روز لاہور کے ایک اور بہاولپور کے تین صوبائی حلقوں میں ضمنی انتخابات ہورہے ہیں۔ لاہور کا ضمنی انتخاب کینٹ کے حلقہ پی پی ایک سو چھپن میں ہورہا ہے جہاں سے مسلم لیگ(ن) کے رکن اسمبلی شیخ امجد عزیز کو لاہور ہائی کورٹ نے اس سال فروری میں ان کی بی اے کی ڈگری جعلی ہونے کی بنا پر نااہل قرار دے دیا تھا۔ الیکشن کمیشن نے اس حلقہ میں عام انتخابات میں دوسرے نمبر پر آنے والے حکومت جماعت مسلم لیگ کے امیدوار ہارون اختر کو کامیاب قرار دیا تھا جنھوں نے رکن اسمبلی کے طور پر حلف بھی اٹھا لیا تھا لیکن سپریم کورٹ نے اکیس مئی کو اس حلقہ میں دوبارہ انتخاب کرانے کا حکم جاری کردیا۔ اب اس حلقہ سے پاکستان مسلم لیگ کے شعیب صدیقی ، پیپلز پارٹی کے عباد محمود قریشی ، مسلم لیگ(نواز) کے نصیر بھٹہ اور پاکستان انصاف تحریک کے عمر سرفراز چیمہ انتخاب لڑ رہے ہیں۔ اس ضمنی انتخاب کی خاص بات یہ ہے کہ یہاں اتحاد براۓ بحالی جمہوریت (اے آر ڈی) کی دو رکن جماعتوں پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ(ن) کے درمیان مفاہمت نہیں ہوسکی اور دونوں جماعتیں اس نشست سے انتخاب لڑنے پر بضد رہیں اور اب ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہیں۔ مسلم لیگ(ن) کا موقف تھا چونکہ یہ نشست عام انتخابات میں ان کےامیدوار نے جیتی تھی اس لیے اب اس جگہ سے اس کے امیدوار کو ہی انتخاب لڑنا چاہیے اور پیپلز پارٹی یہاں سے اپنا امیدوار نہ کھڑا کرے تو وہ بہاولپور کی تمام نشستوں سے اپنے امیدوار ہٹا لے گی۔ دوسری طرف پیپلزپارٹی کا کہنا تھا کہ اس نے بہاولپور میں قومی اسمبلی کی نشست ، جو اس کے امیدوار کے استعفے سے خالی ہوئی تھی ، مسلم لیگ(ن) کو دے دی تھی۔ اس لیے اب مسلم لیگ(ن) کو لاہور کی نشست اسے دینی چاہیے۔ تاہم تصفیہ نہیں ہوسکا۔ پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر قاسم ضیا نے لاہور میں جمہ کے روز پریس کانفرنس میں کہا کہ اے آر ڈی ایک انتخابی اتحاد نہیں ہے اس لیے دونوں جماعتوں کے مد مقابل آنے سے اس پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ لاہور جیسے اہم سیاسی شہر میں کوئی بھی پارٹی دوسرے کے حق میں دستبردار ہوکر یہاں اس کی برتری اور حق تسلیم نہیں کرنا چاہتی جو آئندہ نشستوں کی تقسیم کے لیے ایک روایت اور مثال بن جاۓ۔ حزب مخالف نے حکومت پر اس حلقہ سے انتخاب جیتنے کے لیے مداخلت کرنے کے الزامات بھی لگاۓ ہیں۔ مسلم لیگ(ن) پنجاب کے جنرل سیکرٹری سعد رفیق نے الزام عائد کیا ہے کہ حکومت ان کی پارٹی کے کارکنوں اور حامیوں کو ہراساں کررہی ہے اور انھیں وزیراعلی سے ملنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ مسلم لیگ(ن) کے رہنما کا یہ بھی کہنا تھا کہ حکومت اس حلقہ میں سرکاری امیدوار کے لیے سرکاری وسائل استعمال کررہی ہے اور یہاں کے لیے پانچ کروڑ روپے کے ترقیاتی فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔ وزیراعلی پنجاب کے مشیر اور مسلم لیگ کے ترجمان چودھری صدیق ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک مختصر سی مدت میں پانچ کروڑ روپے کے فنڈز خرچ ہی نہیں ہوسکتے اور اگر کوئی سڑک یا گلی بنائی جاۓ تو اس میں کیا حرج ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دراصل حزب مخالف بوکھلاہٹ کا شکار ہےکیونکہ ضمنی انتخاب عام طور پر حکومتی پارٹی کا امیدوار جیت جاتا ہے کیونکہ لوگوں کو حکومت سے کام ہوتے ہیں۔ اس تردید کے باوجود حکومت کے وزرا علیم خان، اسلم اقبال اور لاہور کے ضلعی ناظم میاں عامر سرکاری پارٹی کے امیدوار کے لیے متحرک نظر آتے ہیں۔ حکومت اس ضمنی انتخاب کو اتنا سنجیدہ لے رہی ہے اس بات کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ حزب مخالف کے تقسیم ہونے کا فائدہ ہونے کے باوجود وزیراعلی پنجاب چودھری پرویز الہی نے جمعرات کے روز خود اپنے امیدوار کے انتخابی مہم کے آخری جلسہ سے خطاب کیا۔ دراصل لاہور مسلم لیگ(ن) اور اس کے سربراہ نواز شریف کا گڑھ مانا جاتا ہے اور حکمران جماعت کی کوشش ہے کہ یہاں سے نشست جیت کر یہ تاثر دیا جاۓ کہ یہ شہر اب نواز شریف کا گڑھ نہیں رہا اوران کی سیاسی طاقت کمزور ہوچکی ہے۔ وزیراعلی پنجاب نے اس حلقہ کی چار کچی آبادیوں کو مالکانہ حقوق دینے کا اعلان کیا اور یہاں پر ایک کالج لڑکیوں کے لیے اور ایک لڑکوں کے لیے قائم کرنے کا وعدہ کیا۔ انھوں نے یہاں پر اٹھائس کنال پر ایک ہسپتال بنانے اور میاں میر کےمزار کے قریب اڑھائی کروڑ کی رقم سے ایک ہسپتال بنانے اور دھرم پورہ پل کے پاس ایک انڈر پاس اور ڈرائی پورٹ کے پاس فلائی اوور بنوانے کا بھی اعلان کیا۔ پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر قاسم ضیا کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ لوگوں کو دھوکہ دے رہے ہیں اور کچی آبادیوں کے مکینوں کو صرف اسناد تقسیم کی گئیں جبکہ مالکانہ حقوق نہیں دیے گۓ۔ قاسم ضیا نے آج اعلان کیا ہے کہ پیپلز پارٹی کسی دھاندلی کو روکنے کے لیے گوجرانوالہ سے راولپنڈی تک اپنے تمام ارکان قومی و صوبائی اسمبلی کو اس حلقہ میں تعینات کررہی ہے اور پارٹی کے سو سو کارکن ہر پولنگ اسٹیشن کے پاس ہوں گے تاکہ کوئی دھاندلی کرنے آۓ تو واپس نہ جاسکے۔ پیپلزپارٹی کے اس اعلان کے بعد لاہور کے اس صوبائی حلقہ کا یہ انتخاب ایک نئی اہمیت اختیار کرگیا ہےکیونکہ اس سے حلقہ میں پولنگ کے روز امن وامان قائم رہنے سے متعلق نئے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||