BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 20 June, 2004, 23:06 GMT 04:06 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کالعدم سپاہِ صحابہ کی ہار

 مولانا اعظم طارق
جھنگ کی نشست اعظم طارق کے قتل کے باعث خالی ہوئی تھی
جھنگ شہر اور نواح پر مشتمل قومی اسمبلی کے حلقہ نواسی کے ضمنی انتخابات میں متحدہ مسلم لیگ کے امیدوار شیخ وقاص اکرم نے کالعدم تنظیم سپاہِ صحابہ کے سابق رکن مولانا اعظم طارق کے بھائی کو شکست دے دی ہے۔

شیخ وقاص اکرم تقریبا دس ہزار ووٹوں کے فرق سے کامیاب ہوئے۔اس حلقہ سے بڑے عرصہ کے بعد مسلم لیگ کے امیدوار کو کامیابی حاصل ہوئی ہے۔

اتوار کو ہونے والے پولنگ کے غیر حتمی تنائج کے مطابق مسلم لیگی امیدوار شیخ وقاص نے اکیاون ہزار چار سو انیس ووٹ حاصل کیے جبکہ ان کے مخالف مولانا عالم طارق نے اکتالیس ہزار پانچ سو انچاس ووٹ حاصل کیے ۔تیسرے نمبر پر پاکستان عوامی تحریک کے حسن محی الدین رہے انہوں نے بارہ ہزار سات سو ستاسی ووٹ حاصل کیے ہیں۔

حکومت پنجاب کے ترجمان کے مطابق وزیراعلی پنجاب چودھری پرویزالٰہی نے شیخ وقاص کو مبارکباد دی ہے۔

گزشتہ سال اکتوبر میں کالعدم سپاہ صحابہ کے سربراہ اعظم طارق کے قتل سے یہ نشست خالی ہوگئی تھی۔

مولانا اعظم طارق تین بار اس نشست سے کامیاب ہوۓ تھے۔

اس بار ان کے بھائی عالم طارق نے آزاد پارلیمانی گروپ کی طرف سے انتخاب میں حصہ لیا تھا اور ان کا مقابلہ حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ کے شیخ وقاص تھا ۔شیخ وقاص بھی سابق ایم پی اے شیخ اقبال کے بھتیجے ہیں۔شیخ اقبال کو بھی چند سال قبل قتل کر دیا گیا تھا۔

اس طرح یہ مقابلہ دو مقتولین کے سیاسی ورثا کے درمیان تھا جس میں مولانا اعظم طارق کے سیاسی وارث شکست کھا گئے۔

تیسرے نمبر پر آنے والے امیدوار حسن محی الدین قادری کا تعلق علامہ طاہر القادری کی جماعت عوامی تحریک سے ہے۔

جھنگ انیس سو پچاسی سے فرقہ وارانہ شدت پسندی کا مرکز رہا ہے اور دیوبندی تنظیم کالعدم سپاہ صحابہ پاکستان کی بنیاد بھی اسی شہر میں رکھی گئی تھی۔

اتوار کی صبح آٹھ بجے دو سو بائیس پولنگ اسٹیشنوں پر پولنگ شروع ہوئی تو سیکیورٹی کے سخت انتظامات تھے۔

جھنگ میں شیعہ سنی کشیدگی اور ممکنہ ہنگامہ آرائی کو روکنے کے لیے پولیس کی بھاری نفری کے علاوہ رینجرز بھی تعینات تھے ۔تاہم اس کے باوجود ایک دو مقام پر لڑائی جھگڑے کی اطلاعات ملی لیکن کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد