ایک وقت میں سات طلاقیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لودھراں میں وٹہ سٹہ کے رواج کے تحت ہونے والی سات شادیاں ایک رشتہ دار کی ناراضگی کے سبب ختم ہو گئیں اور اس ضمن میں ہونے والی طلاقوں کے نتیجے میں چھ خاندانوں کے چوبیس بچے متاثر ہوئے ہیں۔ لودھراں سے دس کلومیٹر کے فاصلے پر چند روز پہلے یہ واقعہ پیش آیا۔ یہاں ایک گاؤں گنوار دا کھوہ میں عبدالرحمان نے اپنے تین بیٹوں اور تین بیٹیوں کی شادی بالترتیب محمد رمضان کی تین بیٹیوں اور تین بیٹوں سے کی تھی اور یوں چھ خاندان وجود میں آئے تھے۔ گزشتہ مہینے محمد رمضان نے اپنی ایک اور بیٹی کا نکاح بھائی کے بیٹے اللہ دتہ سے کر دیا لیکن رخصتی ابھی باقی تھی۔ دونوں خاندانوں میں جھگڑا اس وقت شروع ہوا جب اللہ دتہ اپنی منکوحہ سے ملنے جانے لگا تو اس کی ساس نے اسے ایسا کرنے سے منع کیا جس پر اللہ دتہ ناراض ہوگیا اور سسرال کو دھمکیاں دینے لگا۔ لڑکی کی ماں نے مطالبہ کیا کہ وہ اس کی لڑکی کو طلاق دے کیونکہ اسے اس پر اعتبار نہیں رہا۔ عبدالرحمان کو جب یہ پتہ چلا تواس نے اللہ دتہ کے ساتھ ساتھ اپنے تینوں لڑکوں سے کہا کہ وہ اپنی اپنی بیویوں کو طلاق دے دیں جو انہوں نے دے دی۔ اس کے بدلے محمد رمضان کے تین بیٹوں نے بھی اپنی اپنی بیویوں کو طلاق دے دی۔ لودھراں میں انسانی حقوق کے کمیشن برائے پاکستان کے نمائندہ رائے مبشر احمد تبسم کا کہنا ہے کہ اس گاؤں میں ایک مولوی مشتاق موجود ہیں جو اب تک اڑتیس جوڑوں کے حلالے کرا چکے ہیں ہے۔ لودھراں پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے طلاق دینے والے دو لڑکوں بشیر احمد اور یاسین کو گرفتار کیا تھا لیکن رہا کر دیا کیونکہ وہ قانون کے مطابق اپنی بیویوں کو طلاق دے سکتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||