BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 03 June, 2004, 00:58 GMT 05:58 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فون بل نے طلاق کروا دی
ٹیلی فون
اردن کے ایک شہری نے اپنی بیوی کو اس لئے طلاق دے دی کیونکہ وہ گھنٹوں ٹیلی فون پر سہیلیوں سے باتیں کرتی رہتی تھی۔

ابو سمیع نامی اس شخص کا کہنا ہے کہ اس کی بیوی کی لمبی ٹیلی فون کالوں کی وجہ سے اس کے گھر کا بل اس کی تنخواہ کے تین گنا سے تجاوز کر جاتا ہے۔

یہ پہلا موقعہ نہیں ہے کہ گھر کا ٹیلی فون بل اس جوڑے کے مابین تنازعہ کا باعث بنا ہو۔ اطلاعات کے مطابق ابو سمیع پہلے بھی دوبار اپنی بیوی کو اس بنیاد پر طلاق دے چکے ہیں اور دونوں بار حلالے کی مذہبی رسم کے بعد دونوں نے دوبارہ شادی کر لی تھی۔

’میری بیوی گھنٹوں فون پر اپنی بہنوں اور سہیلیوں سے کھانا پکانے کے طریقوں، کپڑوں اور نئے فیشن پر بات کرتی رہتی تھیں اور مجھے ہر ماہ بھاری بل جمع کرانا پڑتا۔‘

پیٹرا نیوز ایجنسی کے مطابق ابو سمیع کے صبر کا پیمانہ اس وقت لبریز ہو گیا جب ان کی بیوی نے عرب ٹیلی ویژن چینلوں پر ہونے والے مقابلوں میں شرکت کے لئے انٹرنیشنل کالیں کرنا شروع کر دیا اور اس کا نتیجہ جوڑے کے درمیان پہلی طلاق کی صورت میں نکلا۔

بعد میں دوستوں اور خاندان کے کچھ افراد کے دباؤ میں آکر دونوں نے دوبارہ شادی کر لی۔ یہ شادی بھی کچھ زیادہ دیر نہ چل سکی اور ٹیلی فون بل کے مسئلے پر طلاق ہو گئی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد