جنوبی وزیرستان: مزید لڑائی، بمباری | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں آج چوتھے روز بھی پاکستانی فوج اور القاعدہ کے مشتبہ غیرملکیوں اور ان کے حامیوں کے درمیان شکئی اور اردگرد کے علاقوں میں جنگ جاری رہی۔ ادھر افغانستان میں امریکی فوج کا کہنا ہے کہ وہ وزیرستان کے علاقے میں سرحد پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ کسی فرار ہونے والے مشتبہ شخص کو پکڑا جا سکے۔ شکئی کے قریب تیرزہ کے مقام پر عینی شاہدوں کا کہنا ہے کہ آج صبح مقامی وقت کے مطابق سات بجے دو جنگی طیاروں نے پرواز کی اور کل بنائے جانے والے مقامات کو دوبارہ نشانہ بنایا۔ طیاروں سے آدھ گھنٹہ بمباری کے بعد چار ہیلی کاپڑ بھی فضا میں دیکھائی دیئے۔ صدر مقام وانا میں آج صبح نامعلوم حملہ آوروں نے ایک مرتبہ پھر فرنٹیر کور کے کیمپ کو راکٹوں سے نشانہ بنایا۔ اس کے جواب میں ایف سی کے جوانوں نے بھی گولے داغے۔ البتہ اس جھڑپ میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ ت
شکئی کی لڑائی میں دو دیگر افراد کی ہلاکت کی بھی خبر ہے لیکن اس کی ابھی تک سرکاری ذرائع سے تصدیق نہیں ہوسکی۔ دوسری جانب سرکاری فوجوں میں ہلاکتوں کی بھی کوئی تازہ اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔ لیکن مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ فریقین جانی نقصان اٹھا رہے ہیں۔ فوجیوں کی جانب سے زمینی پیش قدمی کی بھی اطلاعات مل رہی ہیں۔ وانا میں ژڑی نور فوجی کمپ اور تیارزہ فورٹ سے وقفے وقفے سے شکئی کی جانب گولے داغے جاتے رہے ہیں۔ علاقے کو جانے والے تمام راستے بند ہیں اور مقامی صحافیوں کو بھی خبروں کے حصول میں شدید دقت پپیش آ رہی ہے۔
افغان دارلحکومت کابل میں امریکی فوج کے ترجمان لیفٹینٹ کرنل ٹکر منساگر کا کہنا ہے کہ وہ وزیرستان سے ملنے والی سرحد کی کڑی نگرانی کر رہے ہیں تاکہ کوئی لڑائی سے فرار ہونے کے لئے سرحد پار کرنے کی کوشش نہ کرے۔ انہوں نے پاکستانی حکام کے ساتھ اس سلسلے میں مسلسل رابطے اور اطلاعات کے تبادلے کی بھی تصدیق کی۔ شکئی کے علاقے میں لڑائی بدھ کے روز اس وقت شروع ہوئی جب القاعدہ اور طالبان کے مبینہ حامیوں نے ایک فوجی چوکی پر حملہ کیا جس میں پندرہ فوجی ہلاک ہوئے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||