BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 12 June, 2004, 11:40 GMT 16:40 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جنوبی وزیرستان: مزید لڑائی، بمباری

وانا
شکئی کے علاقے میں گزشتہ چار روز سے زبردست لڑائی کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں آج چوتھے روز بھی پاکستانی فوج اور القاعدہ کے مشتبہ غیرملکیوں اور ان کے حامیوں کے درمیان شکئی اور اردگرد کے علاقوں میں جنگ جاری رہی۔

ادھر افغانستان میں امریکی فوج کا کہنا ہے کہ وہ وزیرستان کے علاقے میں سرحد پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ کسی فرار ہونے والے مشتبہ شخص کو پکڑا جا سکے۔

شکئی کے قریب تیرزہ کے مقام پر عینی شاہدوں کا کہنا ہے کہ آج صبح مقامی وقت کے مطابق سات بجے دو جنگی طیاروں نے پرواز کی اور کل بنائے جانے والے مقامات کو دوبارہ نشانہ بنایا۔ طیاروں سے آدھ گھنٹہ بمباری کے بعد چار ہیلی کاپڑ بھی فضا میں دیکھائی دیئے۔

صدر مقام وانا میں آج صبح نامعلوم حملہ آوروں نے ایک مرتبہ پھر فرنٹیر کور کے کیمپ کو راکٹوں سے نشانہ بنایا۔ اس کے جواب میں ایف سی کے جوانوں نے بھی گولے داغے۔ البتہ اس جھڑپ میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔

ت

پاک فوج
علاقے میں کئی جگہوں پر بکتر بند گاڑیاں نظر آ ئیں
یارزہ کے رہائشی ڈاکٹر نصراللہ نے بتایا کہ وہاں کا ایک مقامی باشندہ ببرک خان اپنے گھر جا رہا تھا کہ تیارزہ فورٹ کے قریب ایف سی جوانوں نے مبینہ طور پر گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ ایف سی والوں کا موقف تھا کہ اس شخص کے پاس دستی بم تھا جبکہ ہلاک ہونے والے کے اہل خانہ اس سے انکار کرتے ہیں۔

شکئی کی لڑائی میں دو دیگر افراد کی ہلاکت کی بھی خبر ہے لیکن اس کی ابھی تک سرکاری ذرائع سے تصدیق نہیں ہوسکی۔ دوسری جانب سرکاری فوجوں میں ہلاکتوں کی بھی کوئی تازہ اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔ لیکن مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ فریقین جانی نقصان اٹھا رہے ہیں۔

فوجیوں کی جانب سے زمینی پیش قدمی کی بھی اطلاعات مل رہی ہیں۔ وانا میں ژڑی نور فوجی کمپ اور تیارزہ فورٹ سے وقفے وقفے سے شکئی کی جانب گولے داغے جاتے رہے ہیں۔

علاقے کو جانے والے تمام راستے بند ہیں اور مقامی صحافیوں کو بھی خبروں کے حصول میں شدید دقت پپیش آ رہی ہے۔

News image
پاک فوج کے ترجمان

افغان دارلحکومت کابل میں امریکی فوج کے ترجمان لیفٹینٹ کرنل ٹکر منساگر کا کہنا ہے کہ وہ وزیرستان سے ملنے والی سرحد کی کڑی نگرانی کر رہے ہیں تاکہ کوئی لڑائی سے فرار ہونے کے لئے سرحد پار کرنے کی کوشش نہ کرے۔

انہوں نے پاکستانی حکام کے ساتھ اس سلسلے میں مسلسل رابطے اور اطلاعات کے تبادلے کی بھی تصدیق کی۔

شکئی کے علاقے میں لڑائی بدھ کے روز اس وقت شروع ہوئی جب القاعدہ اور طالبان کے مبینہ حامیوں نے ایک فوجی چوکی پر حملہ کیا جس میں پندرہ فوجی ہلاک ہوئے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد