جنوبی وزیرستان میں شدید بمباری | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان نے کہا ہے کہ حکام نے جنوبی وزیرستان میں پاک افغان سرحد کے قریب غیر ملکی انتہا پسندوں اور ان کے مقامی حامیوں کی ٹھکانوں پر حملے کئے ہیں۔ ترجمان نےاسلام آباد میں ایک پریس بریفنگ کے دوران نقشوں اور سیٹلائٹ سے لی گئی تصاویر کی مدد س تازہ ترین فوجی کارروائی کا پس منظر اور تفصیلات بتائیں۔انہوں نے کہا ہے کہ شکئی اور اس کے گردونواح میں کم از کم تین ایسے مقامات ہیں جہاں القاعدہ کے ایک سرکردہ رکن عبد الحادی العراقی سمیت کئی غیر ملکی انتہا پسند یا تو پناہ لیتے رہے ہیں اور یا یہ جگہیں مبینہ دہشت گردوں کی تربیت کے لیے استعمال کی جاتی رہی ہیں۔ انہوں نے موجودہ فوجی آپریشن کو انتہائی اہم اور ضروری قرار دیا اور کہا کہ حکومت مسئلے کے حل کے لیے سیاسی کوششیں بھی جاری رکھے گی۔ میجرجنرل شوکت سلطان نے کہا ’اس علاقے میں جو صورتحال ہے یہ آپ سب کو معلوم ہے کہ یہ خالصتاً فوجی صورتحال نہیں ہے اس میں سیاسی عنصر بھی ہے اور فوجی بھی ۔ اس لیے اس صورتحال کا جو بھی حل ہے نہ خالصتاً فوجی ہے اور نہ ہی خالصتاً سیاسی ہے اس حل کے لیے ہمیں سیاسی اور فوجی حل کا ایک آئیڈیل امتزاج بنانا پڑے گا اس لیے بعض دفعہ فوجی آپریشن کیا جاتا ہے اور بعض اوقات سیاسی عمل سے کام لیا جاتا ہے‘۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ آج صبع فوجی کارروائی شروع کیے جانے کی وجہ دو روز قبل مسئلح قبائلیوں اور غیر ملکی انتہا پسندوں کی جانب سے فوجی چوکیوں پر کیے جانے والا راکٹوں کا حملہ تھا۔ انہوں نے کہا اس دوران انتہا پسندوں نے فرنٹئیر کونسٹیبلری کے نو نوجوانوں کو یرغمال بنانے کے بعد بہیمانہ طریقے سے قتل کر دیا۔ اس کے بعد ہونے والے تصادم میں پینتیس انتہا پسند اور چھ فوجی بھی مارے گئے۔ ترجمان نے اس بات کی تردید یا تصدیق نہیں کی کہ آج کے آپریشن میں پاک فضائیہ کے جہازوں سے بمباری بھی کی گئی البتہ ان کا کہنا تھا کہ یہ سکیورٹی افواج کی مشترکہ کارروائی ہے جس میں ہر طریقے سے انتہا پسندوں کا خاتمہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج کی کارروائی میں کم از کم پانچ انتہا پسند ہلاک ہوئے اور ان کے کہنے کے مطابق یہ کارروائی نتائج حاصل ہونے تک جاری رہے گی۔ پشاور سے بی بی سی کے نامہ نگار رحیم اللہ یوسفزئی کا کہنا ہے پاک فضائیہ کے جیٹ طیاروں نے شکئی کے علاقے میں تقریباً پینتالیس منٹ تک بمباری کی اور غیر ملکیوں جنگجوؤں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ نامہ نگار کے مطابق بعد میں چھبیس ہیلی کاپٹر علاقے پر اڑتے ہوئے دیکھے گئے۔ اطلاعات کے مطابق ان میں سے کچھ ہیلی کاپٹر علاقے کے مختلف گاؤں کے پاس اتر گئے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||