امام بارگاہ پر حملہ، پندرہ ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی میں محمد علی جناح روڈ پر امام بارگاہ علی رضا پر حملے میں کم از کم پندرہ افراد ہلاک اور چالیس کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ کئی زخمیوں کی حالت خطرناک بتائی جاتی ہے۔ جس وقت یہ حملہ ہوا امام بارگاہ میں مغرب کی نماز ہو رہی تھی۔ ایک اطلاع کے مطابق حملے کا سب سے زیادہ نقصان وضو خانے کو پہنچا۔
اس حملے پر تبصرہ کرتے ہوئے پاکستان کے وزیر اطلاعات شیخ رشید احمد نے کہا کہ اگر کراچی میں فرقہ واریت ختم نہ ہوئی تو صدر جنرل مشرف سخت اقدامات کریں گے۔ تاہم انہوں نے ان اقدامات کی وضاحت نہیں کی۔ زخمیوں اور ہلاک ہونے والوں کی لاشوں کو شہر کے مختلف ہسپتالوں میں پہنچا دیا گیا جس کے وجہ سے حادثے کا شکار ہونے والوں کی تعداد کے بارے میں مختلف آراء سامنے آ رہی تھیں۔ ابھی تک حملے کی نوعیت کے بارے میں کچھ وثوق سے نہیں کہا گیا لیکن عینی شاہدین کے مطابق ایک بہت زور دھماکہ ہوا تھا جس سے مسجد کے گنبد اور ایک دفتر کو نقصان پہنچا تھا۔ امام بارگاہ پر حملے کے بعد وہاں جمع لوگ مشتعل ہو گئے اور پولیس کی ایک گاڑی اور ایک پٹرول پمپ کے نذر آتش کئے جانے کی بھی اطلاعات ہیں۔ کراچی میں یہ واقعہ اس وقت پیش آیا ہے جب اتوار کے روز ایک عالم مفتی نظام الدین شامزئی کے قتل کے بعد شہر میں حفاظتی انتظامات سخت کر دیئے گئے تھے۔ حکام کے مطابق یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہوگا کے اما بارگاہ پر اس تازہ ترین حملے اور مفتی شامزئی کے قتل کا آپس میں کوئی تعلق تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||