پادری اغوائیوں کے چنگل سے فرار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کوئٹہ سے مبینہ طور پراغوا ہونے والے پادری نے اسلام آباد سے فون پر بتایا ہے کہ وہ اغوا کاروں کے چنگل سے بھاگ آئے ہیں۔ پولیس اور اقلیت برادری کے نمائندوں کے مطابق پادری ولسن فضل نے فون پر بتایا ہے کہ کچھ لوگ انہیں پشاور لے جا رہے تھے کہ اٹک کے پاس وہ ان کے چنگل سے بھاگ نکلے۔ مجلس عمل سے تعلق رکھنے والی رکن قومی اسمبلی آسیہ ناصر نے بتایاہے کہ پادری ولسن نے صبح پانچ بجے اپنی بازیابی کی اطلاع دی ہے تاہم انھیں تفصیلات کا علم نہیں ہے۔ سینیئر سپرنٹنڈنٹ پولیس کوئٹہ رحمت اللہ نیازی نے بی بی سی کو بتایا ہے پادری نے آج صبح انہیں بھی اپنی بازیابی سے مطلع کیا ہے۔ رحمت اللہ نیازی کے بقول پادری نے کہا ہے کہ اغوا کاروں کی داڑھیاں نہیں تھیں تاہم یہ معلوم بھی نہیں ہے کہ وہ کون لوگ تھے۔ابھی تک پادری اسلام آباد میں ہیں اور کوئٹہ نہیں پہنچے۔ یاد رہے کہ اتوار کی شام مجلس عمل سے تعلق رکھنے والے اقلیتی امور کے وزیر جے پرکاش رکن قومی اسمبلی آسیہ ناصر اور دیگر نے اخباری کانفرنس میں بتایا تھا کہ پادری ولس فضل کو نا معلوم افراد نے اغوا کر لیا ہے اور اس بابت ائیرپورٹ تھانے میں رپورٹ درج کرا دی گئی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ پادری کو دھمکی آمیز خطوط مل رہے تھے جس پر انہوں نے پولیس سے شکایت کی۔ پولیس نے انھیں دو مسلح محافظ دیے تھے لیکن بقول پولیس والوں کے وہ ان سرکاری محافظوں کو ساتھ نہیں رکھتے تھے بلکہ محض گھر پر تعینات کیے رکھتے تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||