اجلے کپڑے، کالا دھن | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فیصل آباد کی سوتر منڈی کے بھی عجب ڈھنگ ہیں۔ پُر پیچ گلیوں، تنگ بازاروں اور سینکڑوں چھوٹی چھوٹی دوکانوں اور ان کے تھڑوں پر لگے پھٹّوں کو دیکھ کر کوئی نہیں کہہ سکتا کہ بظاہر پنجاب کے کسی گنجان آباد علاقے کا عام سا نظر آنے والا یہ بازار دراصل ایشیا کی سب سے بڑی یارن مارکیٹ ہے، جو دُنیا بھر میں اعلیٰ معیار کے خام کپڑے اور دھاگے کی فروخت کے لئے مشہور ہے ۔ ٹیکسٹائل مصنوعات کے لئے پاکستان کے مانچسٹر کے نام سے معروف شہر فیصل آباد، ملکی برآمدات کے حوالے سے بہت اہم ہے۔ ٹیکسٹائل مصنوعات کل ملکی برآمدات کا 60 فیصد ہیں اور ان مصنوعات میں فیصل آباد کا حصّہ 70 فیصد کے قریب ہے۔ اس ضمن میں یہ بات بھی اہم ہے کہ ان برآمدات کا دار و مدار شہر کے تاریخی گھنٹہ گھر سے متُصل اس تنگ و تاریک سی مارکیٹ پر ہے جسے لوگ مقامی زبان میں سُوتر منڈی کہتے ہیں۔ کہنے کو تو یہ ایشیاء کی سب سے بڑی یارن مارکیٹ ہے، لیکن اس بازار کے الگ ہی قاعدے ہیں۔ یہاں نہ جدید اور بڑی بین الاقوامی منڈیوں کی طرح بڑے بڑے الیکٹرانک سائن بورڈز ہیں، نہ کمپیوٹر اور نہ ہی دیگر جدید ذرائع مواصلات سے مزین دفاتر ۔ ایک تنگ سا کمرہ ہے، تین چار ٹیلی فون اور ایک شیخ صاحب، جو نسل در نسل اسی دفتر میں براجمان ہیں۔ اس سوتر منڈی میں فروخت کی غرض سے آنے والا مال یورپ، امریکہ اور دیگر کئی ملکوں تک جاتا ہے لیکن اس خرید و فروخت کا کوئی حساب نہیں رکھا جاتا۔ یعنی یہاں ہونے والا بیشتر کاروبار غیر رسمی ہے۔ روزانہ اربوں روپے کے اس لین دین کا کوئی کھاتا ہے اور نہ ہی روپے کی اس تقسیم میں کوئی بنک شامل ہوتا ہے۔
فیصل آباد کے ایک معاشی ماہر محمد اسلم کا کہنا ہے کہ سوتر منڈی کے تاجروں میں اس رازداری کی کئی ایک وجوہات ہیں۔ ’سوتر منڈی میں دراصل ایک برادری اور چند خاندانوں کی اجارہ داری ہے جو غیر لوگوں کے کاروبار کو یہاں جمنے نہیں دیتے۔ اگر کوئی نیا سرمایہ کار یہاں کاروبار کرنے آ بھی جائے تو کچھ ہی عرصے میں یہاں سے بھاگنے پر مجبور ہو جاتا ہے‘۔ محمد اسلم نے کئی ایسے لوگوں کے نام بتائے جو کروڑوں لے کر اس منڈی میں آئے تھے اور مہینوں میں دیوالیہ ہو کر کاروبار ٹھپ کرنے پر مجبور ہوئے۔ معاشی ماہرین کے مطابق کاروباری حجم کو خفیہ رکھنے کا ایک مقصد ٹیکس افسران سے نجات بھی ہے۔ سوتر منڈی کے تاجر کا یہ تو ماننا ہے کہ منڈی میں یہ کاروبار نسل در نسل ایک ہی برادری میں منتقل ہو رہا ہے اور یہ بھی کہ ان کے نوّے فیصد کاروبار کا کوئی ریکارڈ نہیں ہوتا لیکن اس ’ آف دی ریکارڈ’ کاروبار کی وجہ سوتر منڈی کے معروف تاجر شیخ ریاض انصاری کچھ اور بتاتے ہیں۔ ’دراصل اس منڈی میں کالے دھن کا استعمال عام ہے۔ جس کسی کے پاس ایسا روپیہ ہے جو وہ خفیہ رکھنا چاہتا ہے اور اپنے نام سے کاروبار نہیں کرنا چاہتا وہ یہ پیسہ ایجنٹوں کے ذریعے اس منڈی میں لگا دیتا ہے۔ ان میں بیوروکریٹ بھی ہیں اور نامی گرامی سیاستدان بھی‘۔ کاروباری اور قانونی دستاویز کی عدم موجودگی میں اتنے بڑے پیمانے پر ہونے والے کاروبار میں ہیرا پھیری ہونا لازمی سا امر ہو جاتا ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق اس بازار میں سرمایہ کار حضرات کے سات سے آٹھ ارب روپے ہر سال ڈوب جاتے ہیں جب ’پارٹیاں‘ پیسے لے کر ’بیٹھ’ جانتی ہیں۔ سوتر منڈی میں تواتر سے استعمال ہونے والی اس اصطلاح کا مطلب بتایا سوتر منڈی کے ایک متاثرہ تاجر راجہ منظور نے جو اس منڈی میں غیر روایتی طریقے سے وارد ہوئے ہیں۔ راجہ منظور کا کہنا ہے کہ اس منڈی میں دیگر مارکیٹوں کی طرح بہت جلدی میں فیصلے ہوتے ہیں اور کاغذی کارروائی یا گواہوں وغیرہ کے لئے وقت نہیں ہوتا۔ کروڑوں کے سودے لمحوں میں ہوتے ہیں اور بعد میں بعض اوقات منڈی میں ’ آواز لگتی ہے کہ پارٹی نے اپنے آپ کو دیوالیہ قرار دے کر روپوش ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔ راجہ منظور کا کہنا ہے کہ ہر چند ہفتوں بعد یہ عمل دہرایا جاتا ہے لیکن کاروباری دستاویز نہ ہونے کے باعث آج تک نہ کسی پر مقدمہ بنا ہے اور نہ کسی کو فراڈ کرنے پر سزا ملی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||