| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
کاروباری رابطے بڑھانے کی کوشش
پاکستان اور بھارت کے درمیان ان دنوں نسبتاً بہتر حالات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستان اور بھارت میں کاروباری طبقے اپنے روابط بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ امریکی خبررساں ادارے اے پی کے مطابق پاکستان کا ایک کاروباری وفد ان دنوں بھارت کی سب سے بڑی صنعتی تنظیم کی دعوت پر بھارت کے دورے پر ہے جہاں وہ پاک بھارت بزنس فورم کی افتتاحی تقریب میں بھی شرکت کرے گا۔ اے پی نے پاکستانی تاجر احمد ہاشوانی کے حوالے سے بتایا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی رابطے بڑھانے سے ان کے تعلقات میں بہتری لائی جا سکتی ہے۔ اے پی نے کہا ہے کہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان اور بھارت کے درمیان سالانہ بیس کروڑ ڈالر کی تجارت ہوتی ہے جبکہ مبصرین کے مطابق ان کے درمیان ایک ارب ڈالر کی سمگلنگ ہوتی ہے اور دوسرے ممالک کے ذریعے تجارت کا حجم اس سے بھی زیادہ ہے۔
بھارت کے وزیر خارجہ یشونت سنہا کا کہنا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تیسرے ممالک کے ذریعے دو ارب ڈالر کی تجارت ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر خراب حالات میں اتنی تجارت ہو سکتی ہے تو اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ پرامن حالات کی صورت میں صورتحال کیا ہوگی؟ پاکستان کو خطرہ ہے کہ بھارتی مصنوعات اس کی منڈی پر چھا جائیں گی لیکن بھارتی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان دبئی یا سنگاپور کے ذریعے خام مال منگوانے کی بجائے براہ راست بھارت سے خریدے تو پاکستانی مصنوعات کے لئے عالمی منڈی میں مقابلہ کرنا زیادہ آسان ہو گا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| BBC Languages >>BBC World Service >>BBC Weather >>BBC Sport >>BBC News >> | |