ہلاکتوں کے بعد توڑ پھوڑ، کشیدگی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی کی مصروف شاہراہ لیاقت پر واقع ایک مسجد میں جمعہ کے روز دھماکے میں پندرہ افراد کی ہلاکت کے بعد شہر کے مختلف علاقوں سے گڑ بڑ کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ ہلاک ہونے والے دو افراد کی ابھی تک شناخت ہو سکی ان کی لاشیں مقامی ایدھی مرکز میں رکھی ہیں۔ پولیس کے مطابق واقعہ میں چھیانوے افراد زخمی ہوئے۔ انتظامیہ نے حملے میں ملوث افراد کے بارے میں اطلاع دینے پر پچیس لاکھ روپے کا اعلان کیا ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق ان واقعات میں گیارہ گاڑیاں، دو پٹرول پمپوں اور ایک بنک کو آگ لگائی گئی جبکے شہر کے کئی علاقوں میں صورتحال کشیدہے ہے۔ خاص طور پر ایم اے جناح روڈ پر صورتحال خاصی خراب تھی جہاں گاڑیوں پر پتھراؤ کیا گیا۔ مشتعل افراد نے بسوں اور گاڑیوں کواور دو پٹرول پمپوں کو آگ لگا دی۔ اس کے علاوہ ملیر میں اور فیڈرل بی ایریا میں توڑ پھوڑ ہوئی۔ کسی فرد یا تنظیم نے اس واقعہ کی ذمہ داری قبول نہیں کی اور نہ ہی پولیس نے کسی پر شبہہ ظاہر کیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ فی الحال ایسی کوئی بات کرنا قبل از وقت ہوگا۔ اس کے علاوہ یہ بھی خیال ہے کہ شعیہ مسلک کی اس مسجد پر خودکش حملہ آور نے حملہ کیا ہے جس میں وہ خود بھی ہلاک ہو گیا اور اس کے جسم کے حِصّے مسجد کی میں بکھرے ہوئے تھے۔ مشتبہ خود کش حملہ آور کی شناخت نہیں ہو سکی اور اس سے پہلے کسی تنظیم پر حملہ کی ذمہ داری عائد کرنا مشکل ہوگا۔ بی بی سی کے نامہ نگار ادریس بختیار کے مطابق یہ واقعہ شہر میں کسی کشیدگی کا شاخسانہ نہیں بلکہ دہشت گردی کی کارروائی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ شہر میں شیعہ سنی کشیدگی نہیں پائی جاتی تھی جسے اس واقعے کی وجہ قرار دیا جائے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||