زرداری کیس، سماعت ملتوی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سوئٹزرلینڈ میں پاکستان کی سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو اور ان کے شوہر آصف علی زداری کے خلاف کالے دھن کو سفید کرنے کے الزام میں قائم مقدمہ کی جج نے زداری کے وکیل کا یہ عذر قبول کر لیا ہے کہ آصف زداری علالت کی وجہ سے سفر نہیں کر سکتے۔ جج کرسٹین جنود نے آصف زداری کو جمعرات کے روز عدالت کے سامنے پیش ہونے کے احکامات جاری کیے تھے۔ تاہم خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اب ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے مسٹر زرداری کے وکیل کی طرف سے پیش کردہ میڈیکل سرٹیفیکیٹ قبول کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی ہے۔ وہ ان دنوں پاکستانی جیل کے اسپتال میں داخل ہیں جہاں وہ بدعنوانی کے الزام کے تحت سزا کاٹ رہے ہیں۔ اس سے قبل حکومت پاکستان نے کہا تھا کہ مذکورہ مقدمہ میں اپنے دفاع کے لئے آصف زرداری بیرون ملک جا سکتے ہیں۔ تاہم آصف زرداری نے کہا تھا کہ وہ علالت کی وجہ سے بیرون ملک سفر کے متحمل نہیں ہوسکتے۔ اس پر پاکستان کے قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل منیر حفیظ نے کہا کہ اگر آصف زرداری سوئٹزرلینڈ نہیں جانا چاہتے تو سوئس جج پاکستان آسکتے ہیں۔ گزشتہ سال اگست میں بے نظیر بھٹو اور آصف زرداری کو سوئٹزر لینڈ کے تحقیقاتی جج دانیل دیو نے چھ چھ ماہ کی معطل سزا اور پچاس پچاس ہزار ڈالر جرمانے کی سزا کے ساتھ ان کو دو ملین ڈالر حکومت پاکستان کو ادا کرنے کا حکم دیا تھا۔ سوئس عدالت نے قرار دیا تھا کہ مختلف سوئس بینکوں میں ان کی گیارہ ملین ڈالر سے زائد رقم جمع ہے جو کہ مبینہ طور پر انہوں نے دو سوئس کمپنیوں کو پاکستان میں دیئے گئے ٹھیکوں کے بدلے ملنے والے ’ کک بیکس‘ اور کمیشن سے حاصل کی تھی۔ سوئس تحقیقاتی جج نے بینکوں میں جمع رقم پاکستان سرکار کو واپس کرنے کا بھی حکم دیا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||