افغان پناہ گزیں کہاں جائیں؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان کے شہر مسلم باغ کی سیاسی جماعتوں اور تاجروں نے افغان مہاجرین کی وہاں منتقلی پر سخت احتجاج کیا ہے اور اتوار کو دکانیں بند رکھیں۔ دوسری جانب اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے نے اس احتجاج کے بعد پناہ گزینوں کی منتقلی وقتی طور پر روک دی ہے۔ کوئٹہ سے ایک سو تیس کلومیٹر دور شمال مشرق میں قلعہ سیف اللہ کی تحصیل مسلم باغ میں سیاسی جماعتوں اور تاجروں نے کہا ہے کہ وہ اپنے علاقے میں پناہ گزینوں کو برداشت نہیں کریں گے۔ انہوں نے اپنی تقریروں میں اس فیصلے کو علاقے کے لیے تباہ کن قرار دیا ہے۔ سیاسی قیادت نے جس میں عوامی نیشنل پارٹی، متحدہ مجلس عمل، مسلم لیگ(ق) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے مقامی قائدین شامل ہیں اس منتقلی کو علاقے کے لیے سخت نقصان دہ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ پناہ گزینوں کی آبادکاری کے بعد وہاں بھی وانا جیسی کارروائی شروع ہو سکتی ہے۔ اے این پی کے مقامی صدر انجنیئر حفیظ اللہ نے کہا ہے کہ تحصیل کی اپنی آبادی ستر ہزار نہیں ہے جبکہ وفاقی حکومت مزید بہتّر ہزار پناہ گزین اس علاقے میں منتقل کر رہے ہیں جس سے امن و امان کی صورتحال پیدا ہو گی اور مقامی سطح پر مسائل میں اضافہ ہو گا۔ انہوں نے کہا ہے کہ اس معاملے پر آئندہ ایک ہفتے کے اندر قبائلی جرگہ طلب کیا جا رہا ہے تاکہ متفقہ لائحہ عمل اختیار کیا جا سکے۔ اس حوالے سے پہیہ جام ہڑتال اور سڑک بلاک کرنے کا پروگرام شامل ہے۔ اس بارے میں جب اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے کوئٹہ میں ترجمان بابر بلوچ سے رابطہ قائم کیا گیا تو انہوں نے کہا ہے کہ اس احتجاج کے بعد انہوں نے پناہ گزینوں کی منتقلی کا کام وقتی طور پر روک دیا ہے۔ اتوار کو دو سو پناہ گزینوں کو مسلم باغ کے کیمپ منتقل کرنا تھا۔ اس کے لیے ایک ٹیوب ویل نصب کیا گیا ہے اور کاریز کو بھی فعال کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ دس ہفتوں میں دو ہزار پناہ گزینوں کو مسلم باغ منتقل کرنا تھا جسے اب روک دیا گیا ہے۔ اس علاقے سے تعلق رکھنے والے متحدہ مجلس عمل کے اعلیٰ صوبائی وزیر مولانا عبدالواسع پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ وفاقی حکومت یہ سب امریکی اور افغان حکومت کے کہنے پر کر رہی ہے۔ جب ان پناہ گزینوں کی اپنی حکومت اپنے ملک میں اپنے لوگوں کو برداشت نہیں کرتی تو ہم یہاں انہیں کیوں قبول کریں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||