| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر کا خطاب، اپوزیشن کا احتجاج
صدر جنرل پرویز مشرف نے پارلیمینٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کے دوران قوم سے شدت پسندی کے خلاف جہاد کرنے کی اپیل کی اور اسے ملک کے لیے ایک لعنت قرار دیا ہے۔ صدر کے پارلیمنٹ سے خطاب کے دوران متحدہ مجلس عمل کے ارکان نے مولانا فضل الرحمن کی قیادت میں ایوان سے بائیکاٹ کیا جبکہ اے آر ڈی سے تعلق رکھنے والے ارکان نے بھرپور احتجاج کرتے ہوئے ’ گو مشرف گو اور نو مشرف نو‘ کے نعرے لگائے۔ صدر مشرف کا خطاب تقریبا پونے بارہ بجے شروع ہوا۔ صدر سفید شیروانی میں ملبوس تھے۔ یہ صدر مشرف کا ایک سال سے زیادہ تاخیر کے بعد پارلیمینٹ کے مشترکہ اجلاس سے پہلا خطاب ہے۔ صدر کے خطاب سے پہلے مولانا فضل الرحمن ایک نکتہ اعتراض پر بات کرنا چاہتے تھے لیکن انہیں اس کی اجازت نہیں ملی۔ دوسری طرف تلاوت قران پاک کے بعد جوں ہی صدر مشرف خطاب کے لیے آۓ حزب اختلاف کے اتحاد براۓ بحالی جمہوریت (اے آر ڈی) کے ارکان نے گو مشرف گو اور نو مشرف نو کے اونچے اونچے نعرے لگنا شروع کردیے۔
تاہم صدر نے اپنا خطاب جاری رکھا گو وہ شور کی وجہ سے تھوڑی تھوڑی دیر کا وقفہ کرتے رہے۔ اے آر ڈی کے ارکان نے کالی پٹیاں باندھی ہوئی تھیں او وہ بے نطیر بھٹو اور نواز شریف کے فوٹو لہرارہے تھے۔ پارلیمینٹ قومی اسمبلی کے تین سو بیالیس اور سینیٹ کے سو ارکان پر مشتمل ہے۔ دوسری طرف، پی آئی اے کی لاہور سے اسلام آباد جانے والی پرواز پی کے تین سو چھپن کو ، جس میں مسلم لیگ(ن) کی تہمینہ دولتانہ سمیت حزب اختلاف کے دس بارہ ارکان سوار ہیں ، اسلام آباد ائرپورٹ اترنے نہیں دیاگیا اور پشاور بھیج دیا گیا ہے۔ پہلے اس پرواز کو لاہور سے ساڑھے سات بجے صبح کے بجاۓ ساڑھے نو بجے اڑایا گیا اور بعد میں آدھ گھنٹہ اسلام آباد ائیرورٹ پر کھڑے رکھا گیا۔ اس پرواز میں ایک وفاقی وزیر مملکت اور ایک صوبائی وزیر بھی سوار ہیں۔ صدر پرویز مشرف نے پارلیمینٹ کے مشترکہ اجلاس سے تقریبا ایک گھنٹہ خطاب کے دوران پاکستان کو درپیش چیلنجوں کے حوالے سے کھری کھری باتیں کیں اور کہا کہ پاکستان ایک دوراہے پر کھڑا ہے اور اگر درست فیصلے کیےگئے تو یہ ترقی کے راستے پر چلے گا ورنہ تباہی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ صدر مشرف نے کہا کہ پاکستان کو خطرناک الزامات کا سامنا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایک تو اسے افغانستان میں قبائلی علاقوں سے دہشت گردی پھیلانے کا ذمہ دار ٹھہرایا جارہا ہے۔ دوسرے کشمیر میں لائن آف کنٹرول کے پار دہشت گردی کا الزام اس پر لگایا جارہا ہے۔ تیسرے اس پر جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کا الزام لگایا جارہا ہے۔ چوتھے، پاکستانی معاشرے کو ایک انتہا پسند اور عدم برداشت کا معاشرہ سمجھاجارہا ہے۔ صدر مشرف نے کہا کہ اس کے علاوہ امت مسلمہ جس کا پاکستان اہم رکن ہے مشکلات اور انتشار کا شکار ہے اور اسلام کو انتہا پسندی کا مذہب سمجھاجارہا ہے۔ صدر مشرف نے کہا کہ ان منفی تاثرات سے ملک کو نکالنے اور امت مسلمہ کی بہتری کے لیے درست فیصلے کرنا ہوں گے۔ انھوں نے کہا کہ اگر ایسا نہ کیا گیا تو ہماری آنے والی نسلیں ہماری غفلت کی بھاری قیمت ادا کریں گی۔ صدر مشرف نے کہا کہ پاکستان کو اپنے قبائلی علاقوں سے ایسے غیر ملکی عناصر کے خلاف بھرپور طاقت سے کارروائی کرنا ہوگی جن پر دہشت گردی پر ملوث ہونے کا الزام ہے۔ انھوں نے کہا کہ کشمیر پر جو پاکستان پر الزامات ہیں ان سے نپٹنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ کشمیر مسئلہ کا پرامن اور منصفانہ حل ہو۔ انھوں نے کہا کہ اس سلسلے میں جو پیش رفت ہوئی ہے اسے نیک نیتی کے ساتھ اور کشمیریوں کی امنگوں کے مطابق حل کی طرف لے جانا ہے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان کی جوہری اور میزائل طاقت پاکستان کے دفاع کے لیے ہے اور اسے مستحکم کرنا ہمارے قومی مفادمیں ہے لیکن وہ دنیا کو یقین دلاتے ہیں کہ ہم ایک ذمہ دار قوم ہیں اور جوہری ہتھیاروں کا پھیلاؤ نہیں ہونے دیں گے۔ صدرمشرف نے کہا کہ معاشرے میں انتہاپسندی کی لعنت چند گنے چنے افراد تک محدود ہے یہ لوگ جو انتہاپسند ہیں اور اسلام کی غلط ترجمانی کرکے اپنے تنگ نظر خیالات سب پر مسلط کرنا چاہتے ہیں۔ انھو ں نے کہا کہ یہ لوگ ملک کو اندر سے کھوکھلا کررہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ پاکستانیوں کی اکثریت اعتدال پسند اور اور اسلام سے لگاؤ رکھنے والوں کی ہے۔ انھوں نے ارکان پارلیمان اور عوام سے اپیل کی کہ وہ انتہاپسندوں کے خلاف جہاد کریں تاکہ پاکستان کو اسلام کی روح کے مطابق اعتدال پسند اور اسلامی فلاحی مملکت بنایا جاسکے۔ انھوں نے کہا کہ اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ جو فرد یا گروہ نفرت، فرقہ واریت اور دہشت گردی میں ملوث ہے ان کا پاکستان سے ہمیشہ کے لیے خاتمہ کیا جاۓ۔ صدر مشرف نے کہا کہ انھوں نے قوم سے جو وعدے کیے تھے وہ پورے کردیے ہیں اور انھیں خوشی ہے کہ وہ آج قوم کے منتخب نمائندوں سے مخاطب ہیں۔ انھوں نے ایل ایف او کا بحران حل کرنے پر مسلم لیگ(ق) اس کی اتحادی جماعتوں اور متحدہ مجلس عمل کا شکریہ ادا کیا۔ انھوں نے کہا کہ سترھویں آئینی ترمیم میں چیک اور بیلنس کا نظام قائم کیا گیا ہے تاکہ ملک میں دوبارہ مارشل لاء نہ لگے۔ صدر مشرف نے امید ظاہر کی کے ارکان پارلیمینٹ سترھویں ترمیم کی طرح قومی سلامتی کونسل کے قیام کے لیے بھی ذمہ داری کا مظاہرہ کریں گے۔ صدر مشرف نے کہا کہ ہمیں اپنی جوہری اورمیزائل طاقت کو اور مضبوط بنانا ہے اور ہم اپنے جوہری اثاثے نظر انداز نہیں کرسکتے۔ انھوں نے افواج پاکستان کے کردار کا دفاع کیا اور کہا کہ جو لوگ مخصوص مقاصد کے لیے اسے بدنام کرتے ہیں وہ پورے ملک کو بدنام کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ سب کو مل کر ایسے عناصر سے نپٹنا ہوگا۔ صدر مشرف نے مقامی حکومتوں کے نظام کو قائم رکھنے کی بات بھی دہرائی اور مثبت معاشی اشاروں کے ثمرات عوام تک پہنچانے کے لیے دیہی ترقی، بجلی کو سستا کرنے اور سرمایہ کاری میں اضافہ اور تعلیم اور صحت پر زیادہ توجہ کے اقدامات پر زور دیا۔ صدر مشرف نے اقلیتوں کے حقوق کی بات بھی کی اور کہا کہ انہیں وہی حقوق حاصل ہونے چاہئیں جو کسی اور پاکستانی کو حاصل ہیں اور ہمیں ان کے ساتھ فراخ دلی سے پیش آنا چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں پاکستان کو ایک اعتدال پسند، ترقی یافتہ ، روشن خیال، اسلامی فلاحی ملک بنانا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||