BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 16 January, 2004, 03:09 GMT 08:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سترہ جنوری: ایوان میں تقریر

صدر مشرف
حالیہ دنوں میں صدر مشرف نے کئی ایسے اقدامات کیےہیں جن سے ان کے اقتدار کے آئینی جواز کو تقویت ملے

صدر جنرل پرویز مشرف سترہ جنوری کو صبح گیارہ بجے پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کریں گے۔ سنہ دو ہزار دو کے عام انتخابات کے بعد ان کا قومی اسمبلی اور سینیٹ کے مشترکہ اجلاس سے یہ پہلا خطاب ہوگا۔

آئین کے آرٹیکل چھپن (تین) کے تحت ہر پارلیمانی سال کے آغاز پر صدر مملکت کو پارلیمینٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرنا ہوتا ہے۔

حکمران جماعت مسلم لیگ (ق) اور اس کی اتحادی جماعتوں کے ارکان کو جمعہ کی شام تک اسلام آباد پہنچنے کے پیغامات دیے گۓ ہیں جبکہ پارلیمینٹ ہاؤس میں حزبِ مخالف کے احتجاج کے پیش نظر اس موقع پر سخت حفاظتی اقدامات کا بندوبست کیا جارہا ہے۔

حزب مخالف کے اتحاد اے آر ڈی نے صدر کے خطاب کے دوران پرزور احتجاج کرنے کا اعلان کیا ہے کیونکہ اس کے نزدیک جنرل مشرف آئینی صدر نہیں اور پارلیمینٹ کے لیے ایک اجنبی کی حیثیت رکھتے ہیں۔

آئین کے تحت پارلیمینٹ کے نۓ سال کا باقاعدہ آغاز صدر مملکت کے قومی اسمبلی اور سینیٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب سے ہوتا ہے لیکن صدر مشرف نے ایک سال تک حزب مخالف کی شدید مخالفت اور احتجاج کے مدِنظر پارلیمینٹ سے خطاب کرنے سے گریز کیا اور ایک موقع پر کہا کہ وہ غیر مہذب پارلیمان سے خطاب کرنا نہیں چاہتے۔

مشترکہ اجلاس کی صدارت اسپیکر قومی اسمبلی امیر حسین کریں گے جو صدر مشرف کو خطاب کی دعوت دیں گے۔ اس موقع پر پارلیمینٹ ہاؤس کے باہر پولیس، فرنٹئیر کانسٹیبلری او فوج کے جوان تعینات ہوں گے۔

مشترکہ اجلاس میں ایوان میں چار سو پچاس ارکان قومی اسمبلی و سینیٹ کے بیٹھنے کے لیے پوری نشستیں موجود ہیں۔

قومی اسمبلی کے ترجمان کے مطابق اجلاس کی کارروائی دیکھنے کے لیے وزیروں ، ارکان سینیٹ و قومی اسمبلی کا اپنے ساتھ مہمان لانے کا کوٹہ ختم کردیا گیا ہے۔ تاہم اعلیٰ سرکاری عہدیداروں، سفارت کاروں اور میڈیا کے مہمانوں کے لیے پندرہ سو دعوتی کارڈز تیار کیے گۓ ہیں۔

قومی اسمبلی کی گیلری کو گیارہ رنگوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ہر رنگ کا کارڈ الگ الگ طرح کے مہمانوں کے لیے جاری کیا جاۓ گا۔ دعوتی کارڈ کے بغیر کسی شخص کو مشترکہ اجلاس کے وقت پارلیمینٹ ہاؤس میں جانے کی اجازت نہیں ہوگی۔

اے آر ڈی کے چیئرمین اور پیپلز پارٹی پارلیمینٹیرین کے سربراہ مخدوم امین فہیم نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اے آر ڈی صدر کے خطاب کے موقع پر اپنی حکمت عملی اور طریق کار مشترکہ اجلاس سے پہلے اپنی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں طے کرے گی۔

دوسری طرف اے آر ڈی کی دوسری بڑی جماعت مسلم لیگ(ن) کے سیکرٹری اطلاعات صدیق الفاروق کا کہنا ہے کہ جنرل مشرف پارلیمینٹ کا حصہ نہیں ہیں اور کسی بیرونی فرد کو پارلیمینٹ سے خطاب کرنے کا حق نہیں ہے اس لیے ان سے وہی سلوک کیا جاۓ گا جو کسی بیرونی شخص کے ساتھ کیا جانا چاہیے۔

دوسری طرف، حکمران جماعت مسلم لیگ (ق) کے سیکرٹری جنرل سلیم سیف اللہ نے کہا ہے کہ مشترکہ اجلاس کےموقع پر حزب اختلاف کے غیر مہذب اور غیر جمہوری رویہ کا توڑ کیا جاۓ گا۔ ان کا کہنا ہے کہ اب جبکہ دو تہائی اکثریت سے سترھویں ترمیم منظور ہوگئی ہے اور صدر جنرل پرویز مشرف پارلیمینٹ سے اعتماد کا ووٹ بھی لے چکے ہیں تو صدر کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کے موقع پر گڑ بڑ کرنا مہذب حزبِ اختلاف کا شیوہ نہیں ہے۔

تاہم مذہبی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل نے صدر مشرف کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کے موقع پر اے آر ڈی کے احتجاج میں شریک نہ ہونے کا عندیہ دیا ہے۔ اس سلسلہ میں مجلس عمل کے پارلیمانی ارکان کے ایک وفد نے بدھ کے روز وزیراعظم سے ملاقات کی۔

مجلس عمل اور اے آر ڈی کے درمیان قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کے عہدہ کے لیے بھی مقابلہ چل رہا ہے۔ اے آر ڈی میں شامل جماعتوں کے ارکان کی تعداد مجلس عمل سے زیادہ ہے لیکن ان جماعتوں کی انفرادی نشستیں مجلس عمل کی نشستوں سے کم ہیں۔

صدر کے مشترکہ اجلاس کے موقع پر حزب مخالف کے احتجاج میں شریک نہ ہونے کے عوض متحدہ مجلس عمل پارلیمینٹ میں قائد حزب اختلاف کا عہدہ حاصل کرنے کی امید کر رہی ہے۔

جنرل پرویز مشرف نے پچھلے دو ہفتوں میں ایسے اقدامات کیے ہیں جن سے ان کے اقتدار کے آئینی جواز کو تقویت ملے۔ انھوں نے متحدہ مجلس عمل سے معاہدہ کرکے اپنے فوجی دور حکومت کو سترھویں آئینی ترمیمی بل کے ذریعے جائز قرار دلوایا اور پالیمینٹ اور چاروں صوبائی اسمبلیوں سے اعتماد کا ووٹ حاصل کیا اور اب سیاسی مبصرین کے مطابق وہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرکے اپنی آئینی پوزیشن کو مزید مستحکم کرنا چاہتے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد