BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 31 December, 2003, 14:48 GMT 19:48 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مشرف: جمعرات کو اعتماد کا ووٹ

جنرل مشرف
صدر جنرل مشرف بالآخر جمہوری اداروں کی تائید حاصل کریں گے

نۓ سال کے پہلے دن صدر جنرل پرویز مشرف آئین کی سترھویں ترمیم کے تحت پارلیمینٹ اور چاروں صوبائی اسمبلیوں سے اعتماد کا ووٹ لے رہے ہیں۔

اس مقصد کے لیے صدر نے قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس جمعرات کو گیارہ بجے صبح پارلیمینٹ ہاؤس میں طلب کرلیے ہیں۔

تاہم حزب مخالف کے بڑے سیاسی اتحاد اے آر ڈی میں شامل پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن) نے سترھویں آئینی ترمیم کے خلاف کل پورے ملک میں یوم سیاہ منانے کا اعلان کیا ہوا ہے۔

قومی اسمبلی کے اسپیکر نے صدر کے اعتماد کے ووٹ کے لیے بلاۓ گۓ اجلاس کے قواعد و ضوابط کا اعلان کردیا ہے جس کے تحت اعتماد کے ووٹ کی ایک قرارداد پیش کی جاۓ گی اور اس سیشن میں کوئی رکن پوائنٹ آف آرڈر پر بات نہیں کرسکے گا۔ اعتماد کے ووٹ کا فیصلہ ہاؤس کی تقسیم سے کیا جاۓ گا۔

بدھ کی صبح جنرل مشرف نے قومی اسمبلی اور سینیٹ کے ارکان سے آرمی ہاؤس راولپنڈی میں الگ الگ ملاقاتیں کیں جس میں انھوں نے کہا کہ موجودہ اسمبلیاں اپنی مدت پوری کریں گی اور وہ انہیں تحلیل نہیں کریں گے۔

وفاقی وزیر اطلاعات شیخ رشید احمد نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوۓ کہا ہے کہ متحدہ مجلس عمل کے صدر مشرف کو ووٹ نہ دینے کے باوجود انہیں پارلیمینٹ اور چاروں صوبائی اسمبلیوں سے اپنے حق میں ساٹھ سے چھیاسٹھ فیصد ووٹ مل جائیں گے۔

شیخ رشید احمد نے کہا کہ صدر مشرف نے مولانا فضل الرحمن کو فون کیا تھا اور ان کا سترھویں آئینی ترمیم منظور کرانے پر شکریہ ادا کیا تھا اور ان سے اعتماد کے ووٹ کے لیے مجلس عمل کے ووٹ مانگے تھے۔ وزیراطلاعات نے کہا کہ صدر نے مولانا فضل الرحمن سے کہا تھا کہ مجلس عمل اگر انہیں ووٹ نہ دے تو اپنے ارکان کو آزاد کردے کہ وہ اپنے ضمیر کے مطابق صدر مشرف کو یا ان کے مخالف ووٹ دے دیں لیکن مولانا فضل الرحمن نے اس کی حامی نہیں بھری۔

شیخ رشید احمد نے کہا کہ انکی خواہش ہے کہ وہ اے آر ڈی والوں سے بھی ووٹ مانگیں۔ انھوں نے کہا کہ صدر کو حزب مخالف کے بعض ارکان کا ووٹ بھی ملے گا۔

شیخ رشید کا یہ بھی کہنا ہے کہ سترھویں آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد صدر مشرف کے پارلیمینٹ سے خطاب میں کوئی رکاوٹ نہیں رہی اور صدرمشرف سارک کانفرنس کے بعد پارلیمنٹ کےمشترکہ اجلاس سے خطاب کریں گے جس کی تاریخ ابھی مقرر کی جانی ہے۔

صدر مشرف نے ارکان سے کہا کہ وہ اب بھی صدر ہیں جس کی توثیق ریفرنڈم سے ہوگئی تھی لیکن وہ جمہوریت کے استحکام اور انتشار کے خاتمہ کے لیے خود کو اسمبلیوں کے سامنے پیش کررہے ہیں۔

صدر مشرف کی طرف سے بلاۓ گۓ ان اجلاسوں میں حکومتی جماعت اور اس کی اتحادی جماعتوں کے ارکان علاوہ متحدہ مجلس عمل کے چند ارکان مولانا شیرانی اور گل محمد ڈمر نے بھی شرکت کی۔

آج صدر سے ملنے والے قومی اسمبلی اور سینیٹ کے ارکان کی تعداد دو سو پچاس سے زیادہ بتائی جاتی ہے جنھوں نے صدر کو کہا کہ وہ انہیں اعتماد کا ووٹ دیں گے۔

ان اجلاسوں میں وزیراعظم ظفراللہ جمالی اور مسلم لیگ(ق) کے صدر شجاعت حسین ، سینیر وزرا اور اسپیکر قومی اسمبلی اور چئیرمین سینیٹ بھی شریک ہوۓ۔

پنجاب اور سندھ کی صوبائی اسمبلیوں میں حکمران اتحاد ی اکثریت ہے جہاں سے صدر کو اعتماد کا ووٹ لینے میں کوئی دشواری کا سامنا نہیں ہوگا تاہم سرحد میں متحدہ مجلس عمل کی اکثریت ہے جس نے صدر مشرف کو اعتماد کا ووٹ نہ دینے کا اعلان کیا ہے۔

سرحد اور بلوچستان میں صدر مشرف کو اکثریتی اکان کے ووٹ ملنے کی امید نہیں تاہم حکومت اس سلسلہ میں حزب مخالف کے ارکان سے رابطے کررہی ہے اور اعتماد کے ووٹ کو فلور کراسنگ کی پابندی کے قانون سے مثتثنی قرار دے دیا گیا ہے تاکہ حزب مخالف کے وہ ارکان جو صدر مشرف کے حق میں اپنی جماعتوں کے فیصلہ کے خلاف ووٹ دیں وہ قانون ی زد میں نہ آئیں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد