| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
دوستی بس سروس میں توسیع
ہندوستان اور پاکستان کے درمیان سمجھوتہ ایکسپریس کی بحالی کے ساتھ ساتھ دلی اور لاہور کے درمیان چلنے والی دوستی بس کو مزید پانچ سال تک توسیع دینے کے علاوہ اس کو بہتر بنانے کی تیاریاں بھی ہورہی ہیں۔ ہندوستان کے ٹرانسپورٹ حکام پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے تھے اور راولپنڈی میں انھوں نے چودہ جنوری کو دوستی بس کے سلسلے کو مزید پانچ سال کے لیے توسیع دینے پر اتفاق کیا جس پر باقاعدہ دستخط اگلے ماہ دلی میں ہوں گے۔ لاہور میں دلی ٹرانسپورٹ کمپنی کے چیف منیجنگ ڈائریکٹر اے جے ایس ساہی اور پاکستان ٹورزم ڈیولیپمینٹ کارپوریشن کے منیجنگ ڈائریکٹر ملک حبیب نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ دوستی بس کے انتظامات میں حائل رکاوٹوں ، خامیوں اور تکنیکی مشکلات کو کم کرنے کے لیے اور مسافروں کو زیادہ سہولتیں پہنچانے کے لیے ہندووستان اور پاکستان کے درمیان ایک پروٹوکول پر ہوم ورک مکمل کرلیا گیا ہے اور اس پر سولہ فروری سے پہلے دستخط ہوجائیں گے۔ پاکستان کی طرف سے سیکرٹری مواصلات اس پروٹوکول پر دستخط کے لیے دلی جائیں گے۔ پاکستان کے نمائندے ملک حبیب نے کہا کہ امید ہے کہ فضائی رابطوں اور سمجھوتہ ریل کی بحالی سے دوستی بس پر مسافروں کا دباؤ کم ہوجاۓ گا۔ تاہم انھو ں نے کہا کہ زیادہ مسافروں کی صورت میں یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ دو بسیں ایک ساتھ روانہ ہوا کریں گی۔ جے ایس ساہی نے کہا کہ دونوں طرف کے حکام نے اپنی بات چیت میں مسافروں کے لئے آسانی پیدا کرنے پر غور کیا ہے کہ کس طرح انھیں کم سے کم انتظار کرنا پڑے۔ انھوں نے کہا کہ واہگہ اور اٹاری پر امیگریشن کے دوران مسافروں کا جو وقت ضائع ہوتا ہے اسےکم کرنے کے لیے دونوں طرف کے حکام سفارشات مرتب کررہے ہیں تاکہ اعلی حکام اس بارے میں کوئی فیصلہ کرسکیں۔ ٹرانسپورٹ حکام کے مطابق اب دوستی بس میں ریٹرن ٹکٹ کی بکنگ والو ں کے لیے چھ نشستیں محفوظ رکھی جائیں گی تاکہ لوگ اپنے ویزے کی مدت کے اندر واپس آنے کے لیے نشست لے سکیں۔ اس سے پہلے یہ ہوتا تھا کہ ویزے کی مدت ختم ہوجاتی تھی لیکن بس میں نشست نہ ملنےکی وجہ سے اپنے ملک واپس جانا ممکن نہیں ہوتا تھا۔ دوستی بس کا آغاز انیس سو ننانوے میں ہندوستان کے وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کے بس پر لاہور کے دورے سے ہوا تھا جو دو ہزار ایک میں ہندوستان کی پارلیمینٹ پر عسکریت پسندوں کے حملہ کے بعد معطل کردی گئی تھی۔ تاہم چند ماہ پہلے دونوں ملکوں میں تعلقات کی بحالی کے عمل کے ساتھ اس کو دوبارہ شروع کردیا گیا تھا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||